منتخب اراکین کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے، علامہ ضیغم عباس
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ڈیرہ غازیخان میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں نے سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف اور پارٹی کے مرکزی چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کسی بھی بزرگ اور بیمار قومی رہنما کو علاج سے محروم رکھنا غیرانسانی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیرِاہتمام امام بارگاہ میں ایک اہم ہنگامی پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ضلع ڈیرہ غازی خان اور ضلع راجن پور سے تعلق رکھنے والے شیعہ علمائے کرام نے بھرپور شرکت کی۔ پریس کانفرنس سے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری امورِ خارجہ علامہ ضیغم عباس، ضلعی صدر مجلس وحدت مسلمین ڈی جی خان سید اظہر کاظمی اور صدر علماء ونگ مولانا اللہ نواز سجادی نے خطاب کیا۔مقررین نے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے مبینہ غیرآئینی محاصرے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کی نقل و حرکت محدود کرنا جمہوری اقدار، آئین کی روح اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ عوامی مینڈیٹ کی علامت ہے اور اسے دباو کے ذریعے غیر موثر بنانا عوامی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔
رہنماوں نے سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف اور پارٹی کے مرکزی چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بزرگ اور بیمار قومی رہنما کو علاج سے محروم رکھنا غیرانسانی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران علمائے کرام نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے، منتخب اراکین کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے، بیمار افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور دھرنا دینے والے پارلیمنٹرینز کے آئینی مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
اختتام پر مقررین نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت یا شخصیت کا نہیں بلکہ پارلیمانی وقار، آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا ہے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ سکتا ہے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔