متعدد ممالک میں ایکس سروس متاثر، صارفین کو لاگ اِن اور لوڈنگ میں مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک:سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر سابقہ) کی سروس پیر کی صبح متعدد ممالک میں اچانک متاثر ہوگئی جس کے باعث صارفین کو ایپ اور ویب سائٹ استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صارفین نے سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر شکایات کرتے ہوئے بتایا کہ ویب سائٹ کھولنے پر صرف کمپنی کا لوگو ظاہر ہو رہا تھا جبکہ مواد لوڈ نہیں ہو رہا تھا۔ کئی صارفین لاگ اِن نہ ہونے، ٹائم لائن ریفریش نہ ہونے اور پیغامات نہ بھیجنے جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کرتے رہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سروس میں خرابی کا آغاز مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح ہوا، جس کے بعد مختلف خطوں سے مسائل کی رپورٹس موصول ہونا شروع ہوئیں، کمپنی کی جانب سے تاحال خرابی کی وجہ، متاثرہ علاقوں کی مکمل تفصیل یا مسئلہ حل ہونے کے متوقع وقت سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے بڑے پلیٹ فارمز میں عارضی تعطل اکثر سرور یا نیٹ ورک سے متعلق تکنیکی خرابیوں کے باعث پیش آتا ہے لیکن جب تک کمپنی تکنیکی تفصیلات جاری نہ کرے حتمی وجہ بتانا ممکن نہیں ہوتا۔
صارفین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سروس جلد بحال کی جائے کیونکہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں خبروں، کاروباری روابط اور عوامی رابطے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔