Express News:
2026-06-02@20:41:12 GMT

وہ سماں اب کہاں !

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

گزشتہ کالم میں راقم نے ریڈیو پاکستان کراچی کی مشہورگلوکارہ منی بیگم اور ان کی ایک غزل کا ذکرکیا تھا جس کو بہت سے قارئین نے پسندکیا اورکہا کہ ریڈیو پاکستان اور اس سے وابستہ شخصیتوں سے ان کی حسین یادیں وابستہ ہیں، ان کا اس طرح مختصر ذکر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اچھی طرح سے ان بیتے لمحوں پر بات ہونی چاہیے۔

بات یہ ہے کہ خود راقم کی بھی ریڈیو سننے کے ضمن میں ریڈیو پاکستان سے حسین یادیں وابستہ ہیں خاص کر ایک پروگرام ’’ بچوں کی دنیا‘‘ سن کر ہم گھر ہی میں اس کی نقالی کیا کرتے تھے اور یہی سوچتے تھے کہ کاش! ہم بھی کبھی اس پروگرام کا حصہ بنیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب ہم میڈیا کے ایک استاد کی حیثیت سے اپنے طلبہ کو ریڈیو پاکستان کے دورے پر لے کرگئے اور بچپن میں جو کانوں سے سنتے تھے، وہ سب آنکھوں سے دیکھا۔

بہرکیف ریڈیو پاکستان کراچی کے تمام پروگرام اور ان کے فنکار اپنی حسین یادیں چھوڑ گئے ہیں جن میں قاضی واجد (معروف ریڈیو اداکار اور میزبان)، عظیم سرور (ریڈیو پاکستان کراچی کے معروف اناؤنسر اور پروڈیوسر)، سبحانی با یونس، انور سولنگی، محمود علی، حسن شہید مرزا، طلعت حسین، ساجدہ سید، ابراہیم نفیس، طلعت صدیقی، آغا جہانگیر، منّی باجی، عامرخان (حامد میاں)، جمشید انصاری، اطہر شاہ خان (جیدی)، عشرت ہاشمی، سید ناصر جہاں، صدیق اسماعیل اور مظفر وارثی وغیرہ۔

ریڈیو پاکستان کا یہ دور عوام کے لیے ایک گلیمرکا دور بھی تھا جیسا کہ میرے استاد پروفیسر انعام باری (مرحوم) جو خود ریڈیو سے برسوں وابستہ رہے، نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک کی معروف گلوکارہ، منی بیگم اپنے کیریئر کے اوائلی دور میں صرف اپنی آواز سے پہچانی جاتی تھیں۔ اخبارات میں ان کی کوئی تصویر نہیں آیا کرتی تھی۔ جب وہ ریڈیو کے پروگرام میں آتی تھیں تو لوگ ان کو دیکھنے کے لیے کئی گھنٹوں تک ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کے باہر بیٹھے رہتے کہ دیکھیں منی بیگم کی شخصیت کیسی ہے۔

 ریڈیو پاکستان جو عوام کی تفریح کا ایک بہترین ذریعہ تھا اور جو ہر ایک کی دسترس میں تھا، چنانچہ ایک میں ہی کیا، نہ جانے کتنے لوگوں کی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کا ایک کردار تھا۔ ہماری صبح کا آغاز ریڈیو پاکستان کے ساتھ ہوتا تھا۔ صبح ریڈیو سے نشر ہوتی خبریں اور اسکول و دفتر کی تیاری پھر چھٹی کے دن صبح صبح ’’ حامد میاں کے ہاں‘‘ کا پروگرام سننا یا پھر اس کے بعد ’’ بچوں کی دنیا ‘‘ پروگرام سننا، ہماری بچپن کی دنیا کو اور بھی لاجواب بنا دیتا تھا۔

دوپہر میں نئی فلموں کے تعارفی پروگرام اور ’’ آئیڈیل کی تلاش‘‘ نامی گیتوں بھری کہانی کا پروگرام، شام میں ’’ مزدور بھائیوں‘‘ اور ’’فوجی بھائیوں‘‘ کے لیے ہی نہیں خواتین کے لیے بھی پروگرام تمام طبقات کو ریڈیو کے دامن میں سمیٹ لیتا۔ رات میں خبروں کے علاوہ ’’میری پسند‘‘ فلمی گانوں کے ساتھ ایک الگ ہی مزہ دیتا تھا۔

اس پروگرام میں لوگ خط لکھ کر بھیجتے اور اپنی پسند کا کوئی فلمی گیت سننے کی فرمائش کرتے اور جب یہ پروگرام نشر ہوتا تو میزبان ابتداء میں ان خطوط لکھنے والوں کے تمام نام پڑھ کر سناتا اور پھر اس کے بعد پسند کیے گئے فلمی گیت نشر کیے جاتے۔ بعض لکھنے والے اس قدر زیادہ خطوط بھیجتے تھے کہ پروگرام میں ان کے نام بار بار لیے جانے پر وہ ہمیں یاد ہوگئے، جیسے ایم آرزو، شمع آرزو وغیرہ۔

 اسی طرح ’’اسٹوڈیو نمبر نو‘‘ کون بھول سکتا ہے؟ کیا کیا ڈرامے ہوتے تھے اور اس قدر مقبول اور دل کو چھو لینے والے کہ سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا اور لوگ ریڈیو سے کان لگائے ڈرامہ سنتے رہتے۔ ایک عجیب ہی مزہ تھا، ایک الگ ہی سماں ہوا کرتا تھا، ایک عجب ہی دنیا تھی جس سے خاندان جڑے ہوئے تھے، جب گھر میں بہار ہوتی تھی، سکون ہوتا تھا۔ آپ ریڈیو بھی سنتے رہیں کانوں سے اور ہاتھوں سے اپنے کام میں بھی مصروف رہیں۔ یہ ایک ایسا میڈیم تھا جس سے ہمارے کام میں کبھی حرج نہیں ہوتا تھا بلکہ کام کا مزا دوبالا ہوجاتا تھا، اپنی مصروفیت کے ساتھ ساتھ ہم اپنی پسند کے پروگرام سنتے رہتے تھے۔ آج یہ گزرا زمانہ جب ہم یاد کرتے ہیں تو جیسے خواب لگتا ہے۔

آاحمد رشدی کا ایک مشہورگانا جو ریڈیو پاکستان کراچی کی شناخت بن گیا تھا جس کو لوگ سنتے ہی جھوم اٹھتے۔

بندر روڈ سے کیماڑی

میری چلی رے گھوڑا گاڑی

بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا ریڈیو پاکستان

ہے گویا خبروں کی دکان

تُو اس کے گْنبد کو پہچان

کہیں مسجد کا ہو نہ گمان

کہ یہاں ہوتا ہے درس قرآن

کبھی گمشدگی کا اعلان

بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

ریڈیو سے سینماؤں میں لگی فلموں کے کمرشل پروگرام بھی بڑے دلچسپ ہوتے تھے، جس میں حسن شہید مرزا نہایت انوکھے انداز میں کسی سنیما میں لگی فلم کی کہانی سناتے مگر پروگرام کے اختتام پر کہانی کو بہت خوبصورت انداز میں ادھوری چھوڑ دیتے اور سننے والوں کے تجسس کو بڑھاتے ہوئے سامعین سے سوال کرتے مثلاً۔

 ’’ کیا فلم کا ہیرو اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکا؟ کیا اس نے اپنی محبوبہ کو حاصل کرلیا؟ بس اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے آج ہی فلاں سینما میں جا کر فلم دیکھیے! ‘‘

ریڈیو پاکستان موسیقی اور تفریح کے پروگراموں میں بھی اپنی مثال آپ ہی تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ صابر ظفر کا کلام غلام علی کی آواز میں اور بھی لاجواب ہوجاتا تھا اور ہم بھی گنگناتے پھرتے تھے۔

دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے

اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے

میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں

جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

یہی ریڈیو پاکستان روحانی کیفیت کو بھی چار چاند لگا دیتا تھا جب صبح صبح درود شریف کی آواز ہرگھر سے گونجتی تھی۔ اسی طرح ناصر جہاں کا کلام ہو یا مظفر وارثی کا کلام یہ روحانی کیفیت کو بڑھا دیتے تھے۔ محرم الحرام کے ماہ میں ناصر جہاں کا کلام ایک سماں باندھ دیتا تھا۔

 مزاحیہ پروگرام کا بھی ایک اپنا ہی معیار تھا۔’’ ہنسنا منع ہے‘‘ اور ’’آئینہ‘‘ جیسے پروگرام سنجیدہ سے سنجیدہ سامعین کو بھی ہنسنے پر مجبورکردیتے تھے جب کہ اطہر شاہ خان (عرف جیدی) کے مزاحیہ پروگرام اور اس میں ان کے معصومانہ جملے تو ہر چھوٹے بڑے کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیتے تھے۔

آج دنیا بدل چکی ہے، ایجادات کی جدت نے سب کچھ ہی بدل دیا ہے مگر ریڈیو کی جو دنیا تھی اور اس وقت جو ماحول تھا، جو اس کے بعد ہم نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اب دیکھ سکیں، شاید یہ ہماری عمر کی جنریشن کا خاصہ تھا جو صرف ہمارے حصے میں آیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دیتا تھا ریڈیو سے کا کلام اور اس کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف