حیدرآبادبورڈ 9برس سے کوئی ٹورنامنٹ منعقد نہیں کرسکا ، خرم رفیع
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)9 برس سے حیدر آباد بورڈ کے ذریعے کوئی انٹر کالجیٹ ٹورنامنٹ منعقد نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی بورڈ کی ٹیموں کو درست طریقے سے بناکر انٹر بورڈ ٹورنامنٹ میں بھیجا گیا، ہم اس طرزعمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن گورنمنٹ ڈگری کالج کوہسار لطیف آباد خرم رفیع صدیقی نے چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد کو لکھے گئے ایک خط میں کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ BISE حیدرآباد کے دائرہ اختیار میں کالج کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ ہماری پچھلی درخواست اور بات چیت میں پہلے ہی بتایا جا چکا ہے، یہ ایک سنگین تشویش کی بات ہے کہ گزشتہ 9 برسوں سے حیدرآباد بورڈ کے ذریعے کوئی انٹر کالجیٹ ٹورنامنٹ منعقد نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کالج کی ٹیموں کو شفاف مسابقتی عمل کے ذریعے درست طریقے سے تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم نے پہلے تجویز پیش کی تھی کہ اس سال برائے مہربانی BISE حیدرآباد کی نگرانی میں انٹر کالجیٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے۔بورڈ کے تمام الحاق شدہ کالجوں کو شامل کرنا۔ہماری تجویز سادہ اور عملی تھی ایک ہفتے کا انٹر کالجیٹ ٹورنامنٹBISE حیدرآباد کے تحت منعقد کیا جائے جس میں شرکت کریں تمام کالجز کی شرکت سے چار سے پانچ بڑے کھیلوں کی شمولیت کالج کی سطح پر ٹیلنٹ کی شناخت ہوگی جس کے بعدٹیمیں انٹر بورڈ کے لئے میں تیار کیا جا سکتی ہیں اور آنے والے سالوں میں باقاعدہ انٹر کالجیٹ کا پروگرام بنایا جا سکتا ہے۔بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ ہماری تجویز پر مناسب غور نہیں کیا گیا۔ افسوس کہ بورڈ کے محکمہ کھیل نے ان دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔اب یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ بورڈ کی سطح پر انٹر کالجیٹ مقابلوں کا انعقاد کیے بغیر لڑکیوں کی مخصوص ٹیموں کو پاکستان بورڈ سطح کے مقابلوں میں شرکت کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ ہم اس طرز عمل کی پرزور اور کھلی مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔ مناسب انٹر کالجیٹ ڈھانچے کے بغیر ٹیموں کو بھیجنا مستحق طلبا کو منصفانہ مواقع سے محروم کرتا ہے اور نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی نشوونما کو نقصان پہنچاتا ہے۔ہمیں اس سلسلے میں آپ کی مہربانی اور مثبت اقدام کی امید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا گیا ہے نہیں کیا ٹیموں کو بورڈ کے ہے اور
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.