انجمن سادات امروہہ کی 38 ویں سالانہ تعلیمی ایوارڈ کی شاندار تقریب
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)انجمن سادات امروہہ کراچی (رجسٹرڈ) پاکستان کی سالانہ تقریب تقسیم تعلیمی ایوارڈ گزشتہ روز کمیونٹی سینٹر سادات امروہہ بلاک 13 فیڈرل بی ایریا میں منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی اینڈ ٹیکنالوجی تھے جب کہ دیگر مہمانان گرامی میں سید کاشف رضا اور سید مجتبیٰ نقوی تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد انجمن کے صدر نے خطبہ استقبالیہ سے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تقریب تقسیم تعلیمی ایوارڈ میں سادات امروہہ کے میٹرک سے پی ایچ ڈی تک کے تمام امتیازی نمبروں سے کامیاب طلبہ و طالبات میں شیلڈ، سرٹیفکیٹ کے ساتھ نقد انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ سال 2026 میں ایک اسپیشل ایوارڈ برائے حافظ قرآن بھی دیا گیا۔ انجمن سادات امروہہ کے سابق سیکریٹری برائے کھیل سید صفدر صادق نے انجمن سادات امروہہ کراچی پاکستان کے صدر اور بالخصوص شعبہ تعلیمی امور کو کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انجمن ہر سال یہ تقریب منعقد کرتی ہے، جس سے افراد برادری کے طلبہ و طالبات کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر انجمن کے صدر اور شعبہ تعلیمی امور کے ذمے داران نے مہمانان گرامی کو خصوصی شیلڈ اور گلدستے پیش کیے اور کامیاب افراد کو مبارک باد پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔