Jasarat News:
2026-06-02@22:14:27 GMT

گولارچی وگردونواح میں سرسوں کی فیصل پک کر تیار

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گولارچی (نمائندہ جسارت) گولارچی اور گردونواح میں سرسوں کی فصل پک کر تیار ہونے کے بعد بیجوں سے جدید مشینوں کے ذریعے خالص سرسوں کا تیل نکالنے کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ملاوٹ سے پاک اور معیاری سرسوں کے تیل کی مقامی مارکیٹ میں طلب بڑھ رہی ہے جبکہ کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں تک بھی اس کی فراہمی جاری ہے، جس کے باعث اس شعبے کی معاشی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی دکانوں اور چھوٹے یونٹس پر بیجوں کو صاف اور خشک کرنے کے بعد آئل ایکسپیلر مشینوں کے ذریعے تیل کشید کیا جاتا ہے۔ حاصل ہونے والا خالص تیل گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ تجارتی بنیادوں پر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ بچنے والی کھل مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال ہو کر اضافی آمدن کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس طرح ایک ہی پیداوار سے دوہرا معاشی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔کاشتکاروں اور مقامی کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ بیج فروخت کرنے کے بجائے تیل نکال کر فروخت کرنے سے انہیں بہتر منافع ملتا ہے۔ سرسوں کے تیل کی بڑھتی ہوئی طلب نے دیہی سطح پر چھوٹے پیمانے کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ تاہم اس شعبے کو باضابطہ طور پر چھوٹی صنعت کا درجہ نہ ملنے کے باعث یہ کاروبار منظم انداز میں ترقی نہیں کر پا رہا اور محدود پیمانے تک محدود ہے.

ماہرین کے مطابق اگر حکومت اس شعبے کو اسمال انڈسٹری کے طور پر رجسٹر کرے، آسان قرضوں اور مالی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے، تکنیکی تربیت اور معیاری پیکنگ و برانڈنگ کی سہولت فراہم کرے تو بدین سرسوں کے تیل کی پیداوار کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی سطح پر زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ ملے گا۔مزید برآں، اس صنعت کی ترقی سے درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے، مقامی معیشت کو مستحکم بنانے اور دیہی علاقوں میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرسوں کے تیل کی کشیدگی کے اس عمل کو چھوٹی صنعت کا درجہ دے کر منظم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے تو یہ شعبہ خطے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرسوں کے تیل کی

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار