Jasarat News:
2026-07-24@01:05:40 GMT

گولارچی وگردونواح میں سرسوں کی فیصل پک کر تیار

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گولارچی (نمائندہ جسارت) گولارچی اور گردونواح میں سرسوں کی فصل پک کر تیار ہونے کے بعد بیجوں سے جدید مشینوں کے ذریعے خالص سرسوں کا تیل نکالنے کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ملاوٹ سے پاک اور معیاری سرسوں کے تیل کی مقامی مارکیٹ میں طلب بڑھ رہی ہے جبکہ کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں تک بھی اس کی فراہمی جاری ہے، جس کے باعث اس شعبے کی معاشی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی دکانوں اور چھوٹے یونٹس پر بیجوں کو صاف اور خشک کرنے کے بعد آئل ایکسپیلر مشینوں کے ذریعے تیل کشید کیا جاتا ہے۔ حاصل ہونے والا خالص تیل گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ تجارتی بنیادوں پر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ بچنے والی کھل مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال ہو کر اضافی آمدن کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس طرح ایک ہی پیداوار سے دوہرا معاشی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔کاشتکاروں اور مقامی کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ بیج فروخت کرنے کے بجائے تیل نکال کر فروخت کرنے سے انہیں بہتر منافع ملتا ہے۔ سرسوں کے تیل کی بڑھتی ہوئی طلب نے دیہی سطح پر چھوٹے پیمانے کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ تاہم اس شعبے کو باضابطہ طور پر چھوٹی صنعت کا درجہ نہ ملنے کے باعث یہ کاروبار منظم انداز میں ترقی نہیں کر پا رہا اور محدود پیمانے تک محدود ہے.

ماہرین کے مطابق اگر حکومت اس شعبے کو اسمال انڈسٹری کے طور پر رجسٹر کرے، آسان قرضوں اور مالی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے، تکنیکی تربیت اور معیاری پیکنگ و برانڈنگ کی سہولت فراہم کرے تو بدین سرسوں کے تیل کی پیداوار کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی سطح پر زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ ملے گا۔مزید برآں، اس صنعت کی ترقی سے درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے، مقامی معیشت کو مستحکم بنانے اور دیہی علاقوں میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرسوں کے تیل کی کشیدگی کے اس عمل کو چھوٹی صنعت کا درجہ دے کر منظم اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے تو یہ شعبہ خطے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرسوں کے تیل کی

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ