وزیراعظم کی آسٹریا کی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وزیراعظم نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں، خصوصاً ترجیحی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بات انہوں نے آسٹریا کے وفاقی چانسلر Christian Stocker کے ہمراہ Vienna میں منعقدہ معروف آسٹرین اور پاکستانی کمپنیوں کے سی ای اوز فورم کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کہی۔
سی ای اوز فورم میں قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، صنعتی پیداوار اور تعمیرات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، لیدر اور اسپورٹس مصنوعات، صحت، سیاحت و مہمان نوازی اور خوراک و زرعی صنعتوں سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب میں دوطرفہ تجارت میں اضافے، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں تعاون کے بے پناہ امکانات کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے آسٹرین کمپنیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے اور رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی بھی دعوت دی۔
بعد ازاں وزیراعظم نے آسٹرین چیمبر آف کامرس Austrian Federal Economic Chamber (WKO) کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان۔آسٹریا بزنس فورم سے بھی خطاب کیا، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔