عمران خان کی آنکھ کے لیزر آپریشن کی ضرورت پڑی تو کیا جائیگا‘طارق فضل چودھری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-6
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کو دوسرا انجکشن 25 فروری کو لگے گا اور اگر لیزر آپریشن کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کیا جائے گا۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں طارق فضل چودھری نے کہا کہ گزشتہ روزعمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ اڈیالہ جیل کے اندر حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر ضروری سہولت موقع پر فراہم کی تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کا سوال پیدا نہ ہو، خصوصی طور پر Slit Lamp، OCT Scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی ایمبولینس جیل کے اندر پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پمز کے ڈاکٹر عارف اور شفاء اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی نے فزیکل معائنہ کیا جبکہ سینئرماہرین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر مرزا کانفرنس کال پر موجود رہے اور بیرسٹر گوہر کو بھی تمام پیشرفت سے آگاہ رکھا گیا۔ طارق فضل چودھری نے لکھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سوجن میں واضح کمی آئی ہے، بینائی میں بہتری آ رہی ہے جبکہ معائنے کے دوران آنکھ میں کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے خاندان کو بھی باقاعدہ مطلع کیا کہ وہ معائنے کے دوران موجود رہ سکتے ہیں تاہم خاندان کی جانب سے کوئی نمائندہ نہیں آیا، اس کے باوجود تمام کارروائی آزاد ماہرین کی نگرانی میں کی گئی۔ طارق فضل چودھری نے لکھا کہ عمران خان کو ایک انجکشن لگ چکا ہے جبکہ دوسرا 25 فروری کو لگایا جائے گا، ماہرین کی رائے میں Vabysmo ایک متبادل ہو سکتا ہے مگر فی الحال Eylea جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ موجودہ علاج کے مثبت نتائج سامنے آرہے، اگلا مرحلہ angiogram ہے، جس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو لیزر ٹریٹمنٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قیدی کی حیثیت کے باوجود عمران خان کو تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ ہر شہری کو معیاری علاج مہیا کرے اور عمران خان کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طارق فضل چودھری نے نے کہا کہ
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔