عدالت میں پیشی‘ جماعت اسلامی کے بزرگ کارکن کو دل کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-5
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی کے پر امن احتجاج پر پولیس کے وحشیانہ تشدد، لاٹھی چارج و شیلنگ کے بعد گرفتار کیے گئے 30کارکنوں کی سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بزرگ کارکن 75سالہ محمد رفیق ولد محمد ہاشم دوران سماعت دل کا دورہ پڑنے کے باعث گر پڑے، عدالتی احاطے میں طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث فوری طور پر ایمبولینس طلب کی گئی، تاہم ایمبولینس جیل چورنگی پر ٹریفک میں پھنس گئی۔ اس دوران جماعت اسلامی کے وکلا نے محمد رفیق کو کندھوں پر اٹھا کر سڑک عبور کرائی تاکہ انہیں بروقت اسپتال منتقل کیا جاسکے۔ محمد رفیق کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ مقدمے کی سماعت اے ٹی سی جج سارہ جونیجو کی عدالت میں ہوئی، سماعت کے دوران پولیس نے کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام 29 کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔جماعت اسلامی کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کارکنوں کو پرامن احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا۔ محمد رفیق شاہ فیصل کالونی کے رہائشی ہیں اور ہفتے کے روز سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ پولیس کے مطابق انہیں دھرنا منتشر ہونے کے بعد پریس کلب کی پارکنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔اس موقع پر نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ و دیگر وکلا بھی موجود تھے۔
سندھ اسمبلی کے باہر پر امن احتجاج کے دوران جماعت اسلامی کے گرفتار بزرگ کارکن 75سالہ محمد رفیق کی جناح اسپتال میں ای سی جی ہورہی ہے، نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ ان کی عیادت کررہے ہیں ، محمد رفیق کو دوران سماعت عدالت میں دل کا دورہ پڑنے کے بعداسپتال منتقل کیا گیا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے عدالت میں محمد رفیق
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔