data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں اپنے نقطہ اعتراض پر 14 فروری کو جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ریاستی جبروتشدد اور شیلنگ کا ذکر کیا اور پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے کارکنوں کی تصاویر ایوان میں دکھائیں، احتجاج کے دوران کئی بزرگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے ایک کارکن فرحان کی ٹانگ میں فریکچر ہوگیا، یہ ظلم نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے مسائل پر احتجاج کررہی تھی، ہمارے احتجاج سے ایک پتہ بھی نہیں گرا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے کوآرڈینیٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجھے چھوڑ دیا گیا اور میرے کوآرڈینیٹر کو گرفتار کرلیا گیا۔ ہمارے پرامن احتجاج کو بزور طاقت روکا گیا اور کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ محمد فاروق نے مزید کہا کہ کراچی کو اس کا حق نہیں دیتے تو ہمیں احتجاج کا حق ہی دے دو۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ظلم ہوگیا، مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ سیاسی لوگوں پر ریاستی ظلم و تشدد کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ سیاسی و جمہوری لوگوں پر انسداد دہشت گرد ایکٹ لگانا بھی بند کیا جائے۔ محمد فاروق نے بتایا کہ مجھے ایک ہفتہ میں دو مرتبہ گرفتار کیا گیا، میرا موبائل چھین کر مجھے لاک اپ کیا گیا، یہ کون سی جمہوریت ہے کہ جس میں ارکان اسمبلی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان سے احتجاج کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی کے گرفتار تمام کار کنان کو فوری ر ہا کیا جائے ۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تشدد کا نشانہ بنایا جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے کہا کہ

پڑھیں:

کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش