اہل کراچی کے حق کیلیے پر امن احتجاج کو پولیس نے پر تشدد بنایا، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: منعم ظفر خان کی زیر صدارت جماعت اسلامی کراچی کے مرکز ادارہ نور حق میں امرائے اضلاع کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ اسمبلی پر ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی گئی اور اسے غیر جمہوری اقدام قرار دیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اہلِ کراچی کے حقوق، شہری مسائل کے حل اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے کیے گئے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں نے حکومتی طرز عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے 30 کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، ان پر قائم دہشت گردی کے مقدمات ختم کیے جائیں اور زیر حراست زخمی کارکنوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن مکمل طور پر پرامن تھے اور احتجاج آئینی و جمہوری حق کے تحت کیا گیا، مگر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حالات کو کشیدہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ شیلنگ میں مبینہ طور پر پرانے شیل استعمال کیے گئے جن سے نہ صرف مظاہرین بلکہ اطراف کے رہائشی بھی متاثر ہوئے، ایک مسجد میں آگ لگنے اور علاقے کی بجلی بند کیے جانے جیسے واقعات بھی پیش آئے، جو صورتحال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کراچی پہنچے اور ان کی ہدایت پر 15 فروری کو ملک بھر میں یومِ احتجاج منایا گیا جس میں کارکنوں نے کراچی کے عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کراچی کے شہریوں کے حقوق، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور بااختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور پرامن احتجاج کے جمہوری حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ شہر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور کارکن اپنے حوصلے اور عزم کے ساتھ میدان میں موجود رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کے
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔