data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قرآن انسٹیٹیوٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر اس کے قیام کو ایک اہم فکری و تربیتی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآنِ مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس پر عمل کیے بغیر معاشرتی و اخلاقی اصلاح ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے نظام کو گھروں، تعلیمی اداروں، معاشرے اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے کی جدوجہد ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ قرآن انسٹیٹیوٹ برائے خواتین، قرآن کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے معاشرے تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین قرآن کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں اور یہ ادارہ اس حوالے سے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے کہا کہ قرآن انسٹیٹیوٹ کا قیام خواتین میں دینی شعور، فکری تربیت اور اخلاقی اصلاح کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید سے دوری کے باعث امت مسلمہ زوال کا شکار ہوئی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم قرآن کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا مرکز بنائیں۔جاوداں فہیم نے مزید کہا کہ حلقہ خواتین قرآن کی تعلیم و تربیت کو عام کرنے کے لیے شہر بھر میںدورہ قرآن، تربیتی نشستوں اور فکری پروگراموں کا انعقاد کر رہا ہے، تاکہ خواتین قرآن کی روشنی میں اپنے گھروں، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تربیت کر سکیں۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ ادارہ دین کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرے۔تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی، جنہوں نے قرآن انسٹیٹیوٹ کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے فکری و روحانی تربیت کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔ افتتاحی تقریب سے ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، ناظمہ ضلع قائدین نزہت ذاکر، پرنسپل قرآن انسٹیٹیوٹ کیمپس1 روبینہ سلیم نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ، ناظمہ کراچی جاوداں فہیم قرآن انسٹیٹیوٹ (برائے خواتین) کیمپس 1کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن قرا ن انسٹیٹیوٹ کہا کہ قرا ن

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار