پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے،حافظ طاہر مجید
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید نے کراچی میں جماعت اسلامی کے پرامن احتجاجی دھرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مبینہ فسطائیت، شیلنگ اور لاٹھی چارج کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے، جسے طاقت کے استعمال سے دبانا قابلِ افسوس اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں کے جمہوری حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، لہٰذا حکومت کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔