سمع وا طاعت تنظیم کو مضبوط اور مؤثر بناتی ہے‘رخشندہ منیب
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-08-11
کراچی (اسٹاف رپورٹر)حلقہ خواتین جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے تحت اراکین شوریٰ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس سے ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب نے خصوصی خطاب کیا۔ اجلاس میں صوبہ بھر سے منتخب اراکین شوریٰ نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں ناظمہ صوبہ سندھ نے سمع و طاعت کو تنظیمی استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اراکین شوریٰ کی اولین ذمے داری ہے کہ وہ نظم جماعت کی پاسداری کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور فیصلوں پر اخلاص کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سمع وا طاعت محض الفاظ نہیں بلکہ ایک عملی رویہ ہے جو تنظیم کو مضبوط اور مؤثر بناتا ہے۔انہوں نے بروقت اور مخلصانہ مشورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شوریٰ کا نظام اجتماعی دانش کا مظہر ہے۔ جب اراکین کھلے دل کے ساتھ حالات کا جائزہ لے کر بروقت اور تعمیری مشورہ دیتے ہیں تو فیصلوں میں پختگی اور حکمت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافِ رائے کو حسن نیت اور خیرخواہی کے دائرے میں رکھا جائے تاکہ تنظیمی ماحول مثبت اور نتیجہ خیز رہے۔اجلاس کے دوران نومنتخب اراکین شوریٰ سے حلف بھی لیا گیا۔ ناظمہ صوبہ سندھ نے نومنتخب اراکین کو ذمے داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ یہ منصب اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک امانت بھی ہے، جس کی ادائیگی تقویٰ، دیانت اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اراکین شوری کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔