data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی زیرصدارت مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہم آہنگی اور کرکٹ کھیل کے فروغ کے لیے تعاون کو سراہا ہے۔مجلس شوریٰ نے بھارت کے کرکٹ دشمن اور متعصبانہ رویے و اقدامات پر پاکستان کی بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت کے اقدام کی بھی تحسین کی ہے۔ اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مزدوروں کے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور حکومت سے ان مسائل کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مرکزی مجلس شوریٰ پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مابین بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے کرکٹ کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے خلاف مکمل یکجہتی اور اصولی موقف اپنانے کی حمایت کرتی ہے ۔مجلس شوریٰ نے قرار دیا کہ حکومت پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں ملکی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھے ۔جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ نے اپنی قرارداد میں آئی سی سی سے بھی مطالبہ کیاہے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے کرکٹ کھیل میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے غیر قانونی ،غیر اخلاقی اقدام پر سخت ردعمل دے۔مجلس شوریٰ اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستان میں کھیل اور کھیلوں کے میدان حکومتی غفلت،غلط ترجیحات اور ناقص پالیسیوں کے باعث شدید زوال کا شکار ہیں، ملک بھر میں کھیل کے میدان ختم ہو رہے ہیں ۔اسپورٹس بجٹ برائے نام ہے جبکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے بجائے منفی رحجانات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر شہر اور قصبے میں کھیل کے میدانوں کو قانونی تحفظ دیا جائے۔کھیل کے میدانوں کو کاروباری مقاصد کے استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے ۔اسپورٹس بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور استعمال کو یقینی طور پرشفاف بنایا جائے ۔تعلیمی اداروں میں کھیل لازمی مضمون کے طور پر بحال کیے جائیں ۔نوجوانوں کے لیے صحت مند اور مثبت سرگرمیوں پر مبنی قومی اسپورٹس پالیسی بنائی جائے ۔کھیلوں کے میدانوں پر ناجائز قبضے فوری طور پر ختم کراکر عوام کے لیے کھولے جائیں ۔مرکزی شوریٰ نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ مزدوروں میں سے 83 فیصد دیہاڑی دار اور غیر رسمی (Informal) سیکٹر سے وابستہ ہیں جو مکمل طور پر لیبر قوانین، سماجی تحفظ اور ریاستی کی طرف سے فلاح وبہبود سے محروم ہیں جبکہ بقیہ 17 فیصد فارمل سیکٹر کے وہ مزدور جو لیبر قوانین، سوشل سیکورٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI) اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، انہیں بھی عملاً ان کے آئینی و قانونی حقوق اور مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ مذکورہ اداروں کے فنڈز کنٹری بیوٹری ہیں، یہ حکومت کے بجٹ کا حصہ نہیں بلکہ مزدوروں اور آجران کی مشترکہ رقوم پر مشتمل ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر کرپشن، بدانتظامی اور غیر شفاف غیر قانونی استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان فنڈز کو ’’یتیم کا مال‘‘ سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے اور مؤثر احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں۔اجلاس اس حقیقت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا کے یونین سازی کا دائرہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔ مستقل ملازمتوں کے بجائے ٹھیکیداری و کنٹریکٹ نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اس نظام کے تحت مزدوروں کو اجتماعی سودے بازی، پنشن، سوشل سیکورٹی، طبی سہولیات اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور حفاظتی آلات کی عدم فراہمی کے باعث حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور معذور افراد کی بڑھتی تعداد نہایت تشویشناک ہے۔یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ کم از کم اجرت پر ملک کے تقریباً 90 فیصد اداروں میں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔اوقاتِ کار، اوور ٹائم، ہفتہ وار چھٹی اور چھٹیوں کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔لیبر قوانین میں حالیہ منفی قانون سازی مزدور استحصال میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔خصوصاً یہ اجلاس پنجاب لیبر کوڈ کی 4 فروری کو عجلت میں منظوری کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میںسہ فریقی مشاورتی عمل (حکومت، آجر، مزدور) کو نظر انداز کیا گیا۔حقیقی مزدور نمائندوں اور ملک کی سب سے بڑی مزدور فیڈریشن کو دانستہ طور پر شامل نہیں کیا گیا۔اس اقدام کے ذریعے نہ صرف آئین پاکستان بلکہ آئی ایل او کنونشنز کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔یہ اجلاس اس امر پر بھی تشویش ظاہر کرتا ہے کہ کم آمدنی کے باعث مزدور طبقہ مناسب خوراک سے محروم،صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہے اور اور ان کے بچے تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتوں سے پہلے ہی محروم ہیں۔اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مزدوروں کو لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے دائرہ میں لایا جائے۔سوشل سیکورٹی، EOBI اور ورکرز ویلفیئر فنڈز میں کرپشن کا فوری خاتمہ اور شفاف احتساب کیا جائے۔ٹھیکیداری نظام کو محدود کر کے مستقل روزگار کو فروغ دیا جائے۔کم از کم اجرت، اوقاتِ کار اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔یونین سازی اور اجتماعی سودے بازی کے حق کو آئینی تحفظ دیا جائے۔مزدور دشمن قوانین، بالخصوص پنجاب لیبر کوڈ، کو واپس لے کر ازسرنو مشاورت کی جائے۔تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کو نجکاری سے نکال کر عوامی حق بنایا جائے۔دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور دولت کے ارتکاز کا خاتمہ کیا جائے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ لیبر قوانین مطالبہ کیا بنایا جائے جا رہا ہے میں کھیل یہ اجلاس کرتا ہے کھیل کے دیا جا کیا ہے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم