Jasarat News:
2026-06-02@23:11:03 GMT

ماڈل محلہ کا قیام

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی شہر وہ بدقسمت شہر ہے جس کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ وفاق صوبہ اور مقامی شہری حکومت سب ناگ بن کر اس سے وسائل پر قابض ہیں لیکن کوئی بھی اس شہر کو اس کا حق دینے کو تیار نہیں ہے۔ دوسری جانب کراچی کے شہری بجلی، گیس، سڑکوں اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی نے حق دو کراچی کے نام سے بھرپور مہم چلائی تھی اور جب شہر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو امید ہوئی کہ جماعت اسلامی جیت جائے گی اور پھرعوام کے بنیادی مسائل حل ہوں گے کیونکہ اس سے قبل ماضی میں عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے کراچی کے شہریوں کی جس طرح سے بے لوث اور دیانت داری کے ساتھ خدمت کی تھی وہ آج تک کراچی کے عوام کو یاد ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی اور بے ایمانی کے وہ ریکارڈ قائم کیے۔ مرتضیٰ وہاب جس طریقے سے کراچی کے میئر بنے اور تحریک انصاف کے نمائندوں کو اغوا کر کے بدترین ہارس ٹریڈنگ کا مظاہرہ کیا گیا اس نے جمہوریت کو ایک تماشا بنا دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جس طریقے سے بھی آئی ہے اس سے کراچی کے شہریوں کو ہی فائدہ ہو گا کیونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پیپلزپارٹی کراچی کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کرے گی اورکراچی میں تعمیر وترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا لیکن کراچی کے شہریوں کے یہ تمام خیالات اور خواب عملی تعبیر نہ پاسکے اور سب کچھ دھوکا اورفریب کے سوا کچھ نہیں تھا، کراچی روز بروز تباہی و بربادی کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور ثابت ہو گیا کو پیپلز پارٹی کو کراچی کے عوام کے مسائل اور مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی نے کراچی کے نو ٹاونز میں کامیابی حاصل کی اور اس کے چار ٹاؤنز دھاندلی کے ذریعے چھین لیے گئے لیکن جس تیزی اور برق رفتاری کے ساتھ جماعت اسلامی کے نوٹاؤنز اور یوسیز میں ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں اس پر اس کے ناقدین بھی عش عش کر اٹھے ہیں۔ کھیل کے میدان، پارک آباد ہو رہے ہیں۔ سڑکوں کی کارپینٹنگ کی جا رہی ہے۔ سیوریج اور پانی کے مسائل حل کیے جارہے ہیں۔ سندھ حکومت اور میئر کراچی نے جس طرح سے یونین کونسل اور ٹاؤنز کے اختیارات اور وسائل غضب کیے اس سے ثابت ہو گیا کہ شہر کراچی کا کوئی خیر خواہ نہیں ہے۔ لیکن شاباش ہے جماعت اسلامی کے منتخب ٹاؤن ناظمین اور یوسی چیئرمین کو جنہوں نے اختیارات کا رونا رونے کے بجائے عملی طور پر اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا۔ اس کی تازہ مثال لانڈھی ٹاؤن کی یونین کونسل 10 سو کواٹر اور یونین کونسل 3 شریف کالونی میں ماڈل محلوں کا قیام ہے۔ یونین کونسل 10 کے چیئرمین عبدالحفیظ اور یونین کونسل 3 کے چیئرمین نادر علی خان لودھی اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک محنت اور جدوجہد کے نتیجے میں جنگل میں منگل کا سماں باندھ دیا گیا۔ یوسی سو کواٹر کے ماڈل محلہ کا افتتاح امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کیا جبکہ یوسی 3 شریف کالونی لانڈھی ٹاؤن کے ایریا کے ماڈل محلہ کا افتتاح امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کیا جبکہ اس موقع پر بلدیہ کراچی میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ، امیر ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ، لانڈھی ٹاون کے چیئرمین عبدالجمیل خان، وائس چیئرمین محمد عمران، سیاسی، سماجی شخصیات اور مارکیٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی موجود تھے۔

ماڈل محلہ میں پیور بلاک، بیڈمنٹن کلب اور کرکٹ اسٹریٹ بنائی گئی ہیں۔ بزرگوں اور خواتین کے بیٹھنے کے لیے کارنرز تیار کیے گئے ہیں اور وہاں بینچیں ڈالی گئی ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے جھولے لگائے گئے ہیں۔ اطراف کی تمام گلیوں کو اسٹریٹ لا ئٹس کے ذریعے روشن کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ جگمگ جگمگ کررہا ہے۔ کراچی کے عوام اس ترقی پر حیران ایم کیو ایم کے سابق میئر وسیم اختر نے اختیارات نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے اپنے آخری دور میں ان کے پروجیکٹ منظور نہ ہونے اور کام نہ ہونے پر اسکیموں کی فائیلوں کو میز پر پھینک دیا تھا اور اپنی بے بسی کا اظہار اکثر میڈیا پرکرتے رہتے تھے۔ آج بھی اسی طرح کے حالات ہیں بلکہ اس سے زیادہ معاشی مشکلات کا سامنا ہے لیکن جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے خدمت کا حق ادا کردیا ہے اور یہ بات عملی طور پر ثابت کر دی ہے کہ جوکام بھی اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ کیا جائے گا اس کے بہتر نتائج ضرور نکلتے ہیں۔

دھاندلی کے باوجود کراچی کے نو ٹاونز اور 80 سے زائد یونین کونسلوں میں جماعت اسلامی کے چیئرمین موجود ہیں تو ان گلی محلوں میں ترقیاتی کام ہوتے نظر آرہے ہیں۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی یونین کونسل کے چیئرمین ماڈل محلہ کراچی کے نہیں ہے

پڑھیں:

صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود