اہل کراچی کے حق کے لیے پر امن احتجاج کو پولیس نے پر تشدد بنایا‘ منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں امرا اضلاع کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ، جس میں سندھ اسمبلی پر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سے اہل کراچی کے حق ، مسائل کے حل اور بااختیار شہری حکومت کے لیے پر امن احتجاج پر پولیس کے وحشیانہ تشدد ، لاٹھی چارج اور بدترین شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کو پیپلز پارٹی کی فسطائیت ، کراچی دشمنی ،حکومتی طاقت کا غلط استعمال اور غیر جمہوری عمل قرار دیا گیا ، اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ گرفتارشدہ 30کارکنوں کو فی الفور رہا اور دہشت گردی کے مقدمات ختم کیے جائیں ، زیر حراست زخمی کارکنوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے ، اجلاس میں طے کیا گیا کہ کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے جائز و قانونی حقوق، عوام کے سنگین مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے ایما پر پر امن احتجاج پر وحشیانہ پولیس تشدد اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج جاری رہے گا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کراچی کے حق کے لیے مکمل پر امن طور پر نکلے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے احکامات پر پولیس نے پر امن احتجاج کو پر تشدد بنایا ، ہمارے کارکنان ہر لحاظ سے پر امن تھے اور احتجاج ہمارا جمہوری حق تھا لیکن پولیس نے نہتے کارکنوں پر وحشیانہ تشدد کیا ، بدترین شیلنگ اور لاٹھی چارج کر کے بزرگوں سمیت درجنوں کارکنوں کو زخمی کیا اور 30کارکنوں کوگرفتار کیا ، گرفتار شدگان میں بھی زخمی کارکنان شامل ہیں ، پولیس نے شیلنگ کے لیے 2022-2023کے ایکسپائر شدہ شیل استعمال کیے جن کی زہریلی گیس سے نہ صرف پر امن کارکنان بلکہ قریبی عمارتوں کے رہائشی بھی بری طرح متاثر ہوئے جبکہ پولیس نے مسجددوں کو بھی نہیں چھوڑا اور پولیس کی شیلنگ سے ایک مسجد میں بھی آگ لگ گئی اور جب آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کا عملہ آیا تو اس پر بھی شیلنگ کی گئی ، پولیس کی کارروائی کے دوران پورے علاقے کی بجلی بھی بند کرادی گئی اور اندھیرے میں پر تشدد کارروائیں کی گئیںاور یہ عمل کئی گھنٹے تک جاری رہا ،اس بدترین اور وحشیانہ پولیس ایکشن کی اطلاع ملتے ہی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن بھی کراچی پہنچے اور ان کی ہدایت پر پورے ملک میں اتوار 15فروری کو یوم احتجاج منایا گیا اور پیپلز پارٹی کے جمہوریت دشمن کو پورے ملک میں بے نقاب اور اہل کراچی کی جدو جہد سے بھر پور اظہار یکجہتی کیا گیا ، منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کے حوصلے بلند اور پر عزم ہیں ، ہم اہل کراچی کے حقوق کی جدو جہد اور پر امن احتجاج کے آئینی و قانونی اور جمہوری حق سے ہر گز دستبردار نہیں ہوں گے ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ادارہ نورحق میں امرااضلاع کے اجلاس سے صدارتی خطاب کررہے ہیں
اسٹاف رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی کراچی کے حق کارکنوں کو اہل کراچی پولیس نے حکومت کے کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔