بینک لاکرز میں رکھا پونے 3کلو سونا کیسے غائب ہوا،حقیقت کھلنے پر لوگ حیران
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلورو: بینک کے لاکرز میں رکھے صارفین کا کروڑوں روپے مالیت کا پونے تین کلو سونا غائب ہو گیا ،حقیقت کھلی کو سب حیران رہ گئے۔
بھارتی شہر بنگلورو میں ایک بینک کی برانچ کے لاکرز میں مختلف صارفین کا رکھا گیا کروڑوں روپے مالیت کا سونا غائب ہو گیا اور جب حقیقت سامنے آئی تو سب حیران رہ گئے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بینک کے افسر نے پونے تین کلو سے زائد وزن کا یہ سونا جوئے میں ہار دیا۔ پولیس نے اس کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ملزم بینک منیجر نے صارفین کی رضامندی کے بعد ان کا سونا لاکرز میں سے نکال کر ایک فنانس کمپنی کے پاس رکھوایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق لاکرز سے نکالا گیا سونے 2780 گرام (پونے تین کلو سے زائد) تھا، جس کی مالیت 3.
پولیس نے تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ ملزم بینک منیجر نے سونے کے عوض فنانس کمپنی سے حاصل رقم آن لائن جوئے میں ہار دی۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے تقریباً 700 گرام سونا برآمد بھی کر لیا ہے۔ تاہم اب بھی دو کلو سے زائد سونا غائب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاکرز میں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔