Jasarat News:
2026-06-02@20:39:13 GMT

ایپسٹین: ملحدین کے گھٹیا ہیروز کا ہیرو

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اقبال نے مغربی جمہوریت کے بارے میں کہا تھا ’’چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر ‘‘۔ صرف جمہوریت ہی نہیں بیش تر معاملات میں مغرب کا یہی حال ہے۔ ایپسٹن فائلز نے آج کل مغرب کی اخلاقی فتح کے غرور کو شکست کے صدمے سے دوچار کررکھا ہے۔ یو ٹیوب اور ایسے دوسرے پلیٹ فارمزپر وہ سائٹس جن پر سائنس پر کم اور الحاد کے فروغ پر زیادہ بات کی جاتی ہے، جہاں ہمہ وقت اسلامی تصورات، اسلامی شعائر، عقائد اور افکار میں کیڑے ڈال کر، ملحدین کے فوت شدہ کاموں کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ ایپسٹین فائلز کے معاملے میں وہاں قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ وہ شخصیات جن کا حوالہ تو سائنس اور ریاضی ہے لیکن جو اسلام اور مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو مشتبہ بناکر اپنے آپ کا اظہار کرتے ہیں ایپسٹین فائلز پر دوتین سطری ٹوئٹ سے زیادہ آگے نہیں بڑھیں۔ ایپسٹین فائلز جس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے، یہ فری تھنکرز اس کی داخلی حقیقت پر اس جوش وخروش کا ایک فی صد بھی حصہ ڈالتے نظر نہیں آتے جتنا وہ اقبال اور امام غزالی پر تنقید میں دکھائی دیتے ہیں۔

ایپسٹین فائلز میں رچرڈ ڈاکنز اور لارنس کراوس کے ناموں کی موجودگی اور ان کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط نے ملحدین کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ رچرڈ ڈاکنز برطانوی ارتقائی حیاتیات دان اور مصنف ہے۔ اس کی کتاب The God Delusion یعنی خدا کا فریب یا خدا کا وہم وہ کتاب ہے جس نے الحاد کو جدید عوامی تحریک کا روپ دیا اور مذہب پر کھلی تنقید کو مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کتاب 2006 میں آتے ہی بیسٹ سیلر قرار پائی اور اس کی لا کھوں جلدیں فروخت ہوگئی تھیں۔ یونیورسٹیوں اور میڈیا پر اس کتاب کے نظریہ New Atheism پر وسیع بحث چھڑ گئی۔

لارنس کراوس بھی ایک امریکی طبیعات دان، کاسمو لوجسٹ اور کئی کتابوں کا مصنف ہے۔ اس کا شمار بھی نیو ایتھیزم کے نمایاں چہروں میں ہوتا ہے۔ عالمی لیکچرز، کانفرنسوں اور عوامی مکالموں میں رچرڈ ڈاکنز کے ساتھ ساتھ شریک اور ہم خیال مفکر ہے۔ دونوں ایک باہمی پروجیکٹ کا حصہ ہیں جس کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے راستے سے خدا کوکیسے ہٹایا جائے۔ خواتین کے ساتھ جنسی تعلق میں جو دلچسپیاں ایپسٹین کی تھیں وہی لارنس کی تھیں۔ 2018 میں اس پر جنسی ہراسانی اور بد سلوکی کے الزامات سامنے آئے جس کے نتیجے میں اس کی یونیورسٹی سے وابستگی ختم کردی گئی۔ اسے عموماً جنسی درندہ اور عفریت باور کیا جاتا تھا۔ یہ رچرڈ ڈاکنز کا سب سے بڑا دوست ہے۔

بیچارے ملحدین پھنس اس معاملے میں گئے ہیں کہ رچرڈ ڈاکنز، لارنس کراوس اور جیفری ایپسٹین باہم دوست، شریک کار، معاون اور مددگار تھے۔ 2011 میں کراوس نے ایک انٹرویو میں ایپسٹین کے بارے میں بڑھ چڑھ کر مثبت باتیں کی تھیں اور اس کا دفاع کیا تھا۔ عوامی سطح پر جب ایپسٹین پر گھنائونے الزامات لگے تو لارنس ای میلز اور جوابات میں ایپسٹین کو ’’سوچنے والا‘‘ اور ’’مہربان‘‘ جیسے القابات سے نواز رہا تھا۔ متعدد ای میلز میں وہ ایپسٹین سے گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 2018 میں کراوس ایک ای میل میں ایپسٹین کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے بارے میںباتیں کرتا ملتا ہے۔ ایپسٹین بھی لارنس کا ساتھ دینے میں پیچھے نہیں تھا۔ ایپسٹین کی ایک فائونڈیشن نے کراوس کی زیر قیادت Origins Project کو 250,000 ڈالرکی مالی امداد دی تھی۔

مہان رچرڈ ڈاکنز، گاڈ ڈیلوژن والا، جانتا تھا کہ جیفری ایپسٹین بچہ بازی اور خواتین کے ساتھ گھنائونے معاملات میں ملوث ہے، لارنس کراوس ان کا مشترکہ دوست، خود بھی خواتین کے ساتھ جنسی بد معاملگیوں میں ملوث ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان دونوں کا ساتھ دیتا، انہیں مشورے دیتا اور ان کا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔ یہ تمام واقعات 2008 کے بعد کے ہیں جب ایپسٹین ایک ثابت شدہ بچہ باز ڈیکلیر ہو گیا تھا اور اس کو 18 ماہ کی سزا بھی ہو گئی تھی تو کیا اس وقت مہان رچرڈڈاکنز کیا ظلم کی اعانت نہیں کررہا تھا؟ جب وہ لارنس اور ایپسٹین کو بچانے کے لیے دیوار بنا ہوا تھا؟ ظلم کے نظام کو برقرار رکھنے میں کردار ادا نہیں کررہا تھا؟ کیا یہ سچ کا انکار، گھنائونی اور شرمناک طاقت کے ساتھ وابستگی اور انصاف سے انحراف نہیں تھا؟ وہ بچیاں جو ایپسٹین کی درندگی کا نشانہ بنی تھیں خدا کا انکار کرنے والا ڈاکنز ان کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے ان کے قاتل کا دوست اور مددگار تھا؟ ایسا شخص لوگوں کو حق وباطل کی تمیز کا درس دے رہا ہے؟

رچرڈ ڈاکنز کو پتا تھا ایپسٹین بچہ باز، عورتوں کا دلال اور گھنائونے جرائم کا مجرم ہے۔ لارنس کراوس جنسی درندہ اور شکاری ہے۔ تو پھر کیا یہ اس کا نظریاتی، عقلی اور اخلاقی افلاس نہیں تھا کہ وہ ایسے لوگوں کی صف میں کھڑا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسی پست ذہنیت اور شرمناک کردار والے، شیطانوں کے کہنے پر آکر ہم اللہ ربّ العالمین کا کیسے انکار کردیں؟، ان کے شیطانی دلائل اور نظریات کا کیسے یقین کر لیں؟ جو لوگ اتنی کھلی شیطانیت کو اس کی عریاں ترین حالت میں دیکھنے کے بعد درست فیصلہ نہ کرسکے کیا ان کی عقل اور منطق اس قابل ہوسکتی ہے کہ و ہ اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کی حقیقت کے بارے میں درست فیصلے تک پہنچ سکیں؟

رچرڈ ڈاکنز اور لارنس کراوس کی طرح اسٹیفن ہاکنگ اور بل گیٹس بھی ہمارے ملحدین کے قبلہ وکعبہ ہیں۔ ہا کنگ سائنسی فطریت Scientific naturalism کا حامی تھا اور کہا کرتا تھا کہ کائنات کے قوانین کو سمجھنے کے لیے خدا کے تصور کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ الحاد پر مبنی سائنسی نقطہ نظر کی ترویج کرتا تھا۔ ’’محترم‘‘ بل گیٹس بھی agnostic یا لاادری کے نظریے کے حامی ہیں اور کہتا ہے کہ ہمیں یقین کے ساتھ علم نہیں اور شاید علم ہو بھی نہ سکے کہ خدا ہے۔ یہ دونوں ’’عظیم شخصیات‘‘ بھی جیفری ایپسٹین کے حلقہ ارادت میں شامل تھیں اور ایپسٹین کے جزیرے پر اس کی میزبانی سے لطف بھی اٹھا چکی تھیں۔

ملحدین فرماتے ہیں ایپسٹین کے جزیرے کے وزٹ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بھی ایپسٹین کے ساتھ جرائم میں شریک تھے۔ بات درست ہے۔ لیکن پھر سوال اٹھتا ہے ایپسٹین کے جزیرے پر کون سی سائنسی لیبارٹری تھی کون سی علمی اور تحقیقاتی کا نفرنس ہورہی تھی جس میں شرکت کے لیے یہ اصحاب ایپسٹین کی دعوت پر اس کے جزیرے پر گئی تھیں؟ کیا انہیں علم نہیں تھا کہ ایپسٹیں کون ہے اور اس کا جزیرہ کن کرتوتوں کا مرکز ہے اور کن کاموں کے لیے مشہور ہے؟ کیا ایسے لوگ ہمارے اخلاقی آئیڈیل اور ہیرو ہوسکتے ہیں؟ کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ اپنے بچوں کے سامنے ہم انہیں ہیرو کے طور پر پیش کریں؟

ملحدین خود کو دلیل کے آگے پسپا ہونے والا ثابت کرتے ہیں۔ اب ان کے پاس کیا دلیل رہی جب ان کے آئیڈیل اور رہنما ایپسٹین فائلز میں ننگے ہوکر سامنے آگئے ہیں جن کی تنہائیاں، دوستیاں اور تعلقات قابل اعتبار اور محترم لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ بدترین اور گھنائونے جرائم میں ملوث بچہ بازوں، جنسی درندوں اور عورتوں کے دلالوں کے ساتھ تھیں۔ ان محترم ملحدین کے آقائوں اور ایپسٹین کے درمیان کوئی تو ذاتی دلچسپی اور قدر مشترک ہوگی جو انہیں اتنا قریب لے آئی کہ وہ ایپسٹین کی تعریفیں کررہے ہیں، اس کا دفاع کر رہے ہیں، اس سے امداد قبول کررہے ہیں؟ کیا ایپسٹین جیسا شیطان کسی نیکی اور فلاحی کے کام میں انویسٹ کرسکتا ہے؟ بل گیٹس اور ایپسٹین کے روابط نے بل گیٹس کے فلاحی کاموں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔ بل گیٹس کے کاموں میں کہاں کہاں شیطان کی شراکت داری ہے جو ایپسٹین جیسا شیطان ان میں دلچسپی لے رہا تھا؟؟ اتنے ’’عظیم ذہنوں‘‘ کی ترجیح ایسا شیطان تھا؟

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز جیفری ایپسٹین لارنس کراوس اور ایپسٹین کے بارے میں ایپسٹین کی رچرڈ ڈاکنز ایپسٹین کے ملحدین کے کے جزیرے نہیں تھا کی تھیں بل گیٹس کے ساتھ کے لیے اور اس تھا کہ

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی