ایپسٹین: ملحدین کے گھٹیا ہیروز کا ہیرو
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقبال نے مغربی جمہوریت کے بارے میں کہا تھا ’’چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر ‘‘۔ صرف جمہوریت ہی نہیں بیش تر معاملات میں مغرب کا یہی حال ہے۔ ایپسٹن فائلز نے آج کل مغرب کی اخلاقی فتح کے غرور کو شکست کے صدمے سے دوچار کررکھا ہے۔ یو ٹیوب اور ایسے دوسرے پلیٹ فارمزپر وہ سائٹس جن پر سائنس پر کم اور الحاد کے فروغ پر زیادہ بات کی جاتی ہے، جہاں ہمہ وقت اسلامی تصورات، اسلامی شعائر، عقائد اور افکار میں کیڑے ڈال کر، ملحدین کے فوت شدہ کاموں کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ ایپسٹین فائلز کے معاملے میں وہاں قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ وہ شخصیات جن کا حوالہ تو سائنس اور ریاضی ہے لیکن جو اسلام اور مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو مشتبہ بناکر اپنے آپ کا اظہار کرتے ہیں ایپسٹین فائلز پر دوتین سطری ٹوئٹ سے زیادہ آگے نہیں بڑھیں۔ ایپسٹین فائلز جس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے، یہ فری تھنکرز اس کی داخلی حقیقت پر اس جوش وخروش کا ایک فی صد بھی حصہ ڈالتے نظر نہیں آتے جتنا وہ اقبال اور امام غزالی پر تنقید میں دکھائی دیتے ہیں۔
ایپسٹین فائلز میں رچرڈ ڈاکنز اور لارنس کراوس کے ناموں کی موجودگی اور ان کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط نے ملحدین کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ رچرڈ ڈاکنز برطانوی ارتقائی حیاتیات دان اور مصنف ہے۔ اس کی کتاب The God Delusion یعنی خدا کا فریب یا خدا کا وہم وہ کتاب ہے جس نے الحاد کو جدید عوامی تحریک کا روپ دیا اور مذہب پر کھلی تنقید کو مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کتاب 2006 میں آتے ہی بیسٹ سیلر قرار پائی اور اس کی لا کھوں جلدیں فروخت ہوگئی تھیں۔ یونیورسٹیوں اور میڈیا پر اس کتاب کے نظریہ New Atheism پر وسیع بحث چھڑ گئی۔
لارنس کراوس بھی ایک امریکی طبیعات دان، کاسمو لوجسٹ اور کئی کتابوں کا مصنف ہے۔ اس کا شمار بھی نیو ایتھیزم کے نمایاں چہروں میں ہوتا ہے۔ عالمی لیکچرز، کانفرنسوں اور عوامی مکالموں میں رچرڈ ڈاکنز کے ساتھ ساتھ شریک اور ہم خیال مفکر ہے۔ دونوں ایک باہمی پروجیکٹ کا حصہ ہیں جس کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے راستے سے خدا کوکیسے ہٹایا جائے۔ خواتین کے ساتھ جنسی تعلق میں جو دلچسپیاں ایپسٹین کی تھیں وہی لارنس کی تھیں۔ 2018 میں اس پر جنسی ہراسانی اور بد سلوکی کے الزامات سامنے آئے جس کے نتیجے میں اس کی یونیورسٹی سے وابستگی ختم کردی گئی۔ اسے عموماً جنسی درندہ اور عفریت باور کیا جاتا تھا۔ یہ رچرڈ ڈاکنز کا سب سے بڑا دوست ہے۔
بیچارے ملحدین پھنس اس معاملے میں گئے ہیں کہ رچرڈ ڈاکنز، لارنس کراوس اور جیفری ایپسٹین باہم دوست، شریک کار، معاون اور مددگار تھے۔ 2011 میں کراوس نے ایک انٹرویو میں ایپسٹین کے بارے میں بڑھ چڑھ کر مثبت باتیں کی تھیں اور اس کا دفاع کیا تھا۔ عوامی سطح پر جب ایپسٹین پر گھنائونے الزامات لگے تو لارنس ای میلز اور جوابات میں ایپسٹین کو ’’سوچنے والا‘‘ اور ’’مہربان‘‘ جیسے القابات سے نواز رہا تھا۔ متعدد ای میلز میں وہ ایپسٹین سے گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 2018 میں کراوس ایک ای میل میں ایپسٹین کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے بارے میںباتیں کرتا ملتا ہے۔ ایپسٹین بھی لارنس کا ساتھ دینے میں پیچھے نہیں تھا۔ ایپسٹین کی ایک فائونڈیشن نے کراوس کی زیر قیادت Origins Project کو 250,000 ڈالرکی مالی امداد دی تھی۔
مہان رچرڈ ڈاکنز، گاڈ ڈیلوژن والا، جانتا تھا کہ جیفری ایپسٹین بچہ بازی اور خواتین کے ساتھ گھنائونے معاملات میں ملوث ہے، لارنس کراوس ان کا مشترکہ دوست، خود بھی خواتین کے ساتھ جنسی بد معاملگیوں میں ملوث ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان دونوں کا ساتھ دیتا، انہیں مشورے دیتا اور ان کا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔ یہ تمام واقعات 2008 کے بعد کے ہیں جب ایپسٹین ایک ثابت شدہ بچہ باز ڈیکلیر ہو گیا تھا اور اس کو 18 ماہ کی سزا بھی ہو گئی تھی تو کیا اس وقت مہان رچرڈڈاکنز کیا ظلم کی اعانت نہیں کررہا تھا؟ جب وہ لارنس اور ایپسٹین کو بچانے کے لیے دیوار بنا ہوا تھا؟ ظلم کے نظام کو برقرار رکھنے میں کردار ادا نہیں کررہا تھا؟ کیا یہ سچ کا انکار، گھنائونی اور شرمناک طاقت کے ساتھ وابستگی اور انصاف سے انحراف نہیں تھا؟ وہ بچیاں جو ایپسٹین کی درندگی کا نشانہ بنی تھیں خدا کا انکار کرنے والا ڈاکنز ان کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے ان کے قاتل کا دوست اور مددگار تھا؟ ایسا شخص لوگوں کو حق وباطل کی تمیز کا درس دے رہا ہے؟
رچرڈ ڈاکنز کو پتا تھا ایپسٹین بچہ باز، عورتوں کا دلال اور گھنائونے جرائم کا مجرم ہے۔ لارنس کراوس جنسی درندہ اور شکاری ہے۔ تو پھر کیا یہ اس کا نظریاتی، عقلی اور اخلاقی افلاس نہیں تھا کہ وہ ایسے لوگوں کی صف میں کھڑا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایسی پست ذہنیت اور شرمناک کردار والے، شیطانوں کے کہنے پر آکر ہم اللہ ربّ العالمین کا کیسے انکار کردیں؟، ان کے شیطانی دلائل اور نظریات کا کیسے یقین کر لیں؟ جو لوگ اتنی کھلی شیطانیت کو اس کی عریاں ترین حالت میں دیکھنے کے بعد درست فیصلہ نہ کرسکے کیا ان کی عقل اور منطق اس قابل ہوسکتی ہے کہ و ہ اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ کی حقیقت کے بارے میں درست فیصلے تک پہنچ سکیں؟
رچرڈ ڈاکنز اور لارنس کراوس کی طرح اسٹیفن ہاکنگ اور بل گیٹس بھی ہمارے ملحدین کے قبلہ وکعبہ ہیں۔ ہا کنگ سائنسی فطریت Scientific naturalism کا حامی تھا اور کہا کرتا تھا کہ کائنات کے قوانین کو سمجھنے کے لیے خدا کے تصور کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ الحاد پر مبنی سائنسی نقطہ نظر کی ترویج کرتا تھا۔ ’’محترم‘‘ بل گیٹس بھی agnostic یا لاادری کے نظریے کے حامی ہیں اور کہتا ہے کہ ہمیں یقین کے ساتھ علم نہیں اور شاید علم ہو بھی نہ سکے کہ خدا ہے۔ یہ دونوں ’’عظیم شخصیات‘‘ بھی جیفری ایپسٹین کے حلقہ ارادت میں شامل تھیں اور ایپسٹین کے جزیرے پر اس کی میزبانی سے لطف بھی اٹھا چکی تھیں۔
ملحدین فرماتے ہیں ایپسٹین کے جزیرے کے وزٹ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بھی ایپسٹین کے ساتھ جرائم میں شریک تھے۔ بات درست ہے۔ لیکن پھر سوال اٹھتا ہے ایپسٹین کے جزیرے پر کون سی سائنسی لیبارٹری تھی کون سی علمی اور تحقیقاتی کا نفرنس ہورہی تھی جس میں شرکت کے لیے یہ اصحاب ایپسٹین کی دعوت پر اس کے جزیرے پر گئی تھیں؟ کیا انہیں علم نہیں تھا کہ ایپسٹیں کون ہے اور اس کا جزیرہ کن کرتوتوں کا مرکز ہے اور کن کاموں کے لیے مشہور ہے؟ کیا ایسے لوگ ہمارے اخلاقی آئیڈیل اور ہیرو ہوسکتے ہیں؟ کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ اپنے بچوں کے سامنے ہم انہیں ہیرو کے طور پر پیش کریں؟
ملحدین خود کو دلیل کے آگے پسپا ہونے والا ثابت کرتے ہیں۔ اب ان کے پاس کیا دلیل رہی جب ان کے آئیڈیل اور رہنما ایپسٹین فائلز میں ننگے ہوکر سامنے آگئے ہیں جن کی تنہائیاں، دوستیاں اور تعلقات قابل اعتبار اور محترم لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ بدترین اور گھنائونے جرائم میں ملوث بچہ بازوں، جنسی درندوں اور عورتوں کے دلالوں کے ساتھ تھیں۔ ان محترم ملحدین کے آقائوں اور ایپسٹین کے درمیان کوئی تو ذاتی دلچسپی اور قدر مشترک ہوگی جو انہیں اتنا قریب لے آئی کہ وہ ایپسٹین کی تعریفیں کررہے ہیں، اس کا دفاع کر رہے ہیں، اس سے امداد قبول کررہے ہیں؟ کیا ایپسٹین جیسا شیطان کسی نیکی اور فلاحی کے کام میں انویسٹ کرسکتا ہے؟ بل گیٹس اور ایپسٹین کے روابط نے بل گیٹس کے فلاحی کاموں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔ بل گیٹس کے کاموں میں کہاں کہاں شیطان کی شراکت داری ہے جو ایپسٹین جیسا شیطان ان میں دلچسپی لے رہا تھا؟؟ اتنے ’’عظیم ذہنوں‘‘ کی ترجیح ایسا شیطان تھا؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز جیفری ایپسٹین لارنس کراوس اور ایپسٹین کے بارے میں ایپسٹین کی رچرڈ ڈاکنز ایپسٹین کے ملحدین کے کے جزیرے نہیں تھا کی تھیں بل گیٹس کے ساتھ کے لیے اور اس تھا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔