صدر زرداری ایک بار پھر متحرک، حکومت اور عمران خان کے خلاف سخت زبان استعمال کیوں کی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری کے حال ہی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران سخت لہجے نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو‘، آصف زرداری کا نام لیے بغیر عمران خان پر طنز
آصف زرداری نے حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ میرا مشورہ مانیں تو انہیں ملک چلا کر دکھا دوں گا، ساتھ ہی بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیڈر کا تو کام ہی لڑنا اور جیلوں میں جانا ہے لیکن آج لیڈر ایسے ہیں کہ ڈیڑھ سال نہیں ہوا جیل میں اور انہوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کبھی وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھ میں درد ہے کبھی کہتے ہیں یہاں دودھ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو ان کی بڑکیں ہیں وہ صرف دکھانے اور بولنے کی ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے وی نیوز کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کی تقریر کو غلط تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، صدر نے یہ گفتگو خالصتاً اپنے ذاتی تجربات اور جیل میں برداشت کی گئی سختیوں کے حوالے سے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی ہوتیں اور وہاں ایک مخصوص اور مشکل ماحول ہوتا ہے لیکن قید کے دوران صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔
مزید پڑھیے: ایک بیوقوف آدمی نے ساری دنیا سے تعلقات خراب کردیے تھے، آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید
عمران خان سے ملاقات اور علاج کے لیے اسپتال منتقلی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے قمر زمان قائرہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی تو یہ مطالبہ بھی کر چکی ہے کہ عمران خان کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے اور اگر طبی بنیادوں پر ضرورت ہو تو انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔
ان کے مطابق عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی یا علاج کے لیے اسپتال منتقلی کا فیصلہ حکومت کا اختیار ہے اور پیپلز پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
قمر زمان قائرہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عمران خان کا بروقت علاج کیوں نہیں کرایا گیا اور اس معاملے پر علیحدہ تحقیق ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتی ہے یا انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پیپلز پارٹی نے عمران خان کو قید نہیں کرایا۔
حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو حکومت سے جو بھی شکایات ہوتی ہیں ان کا کھل کر اظہار کیا جاتا ہے، وزیراعظم اور صدر کی ملاقات کے دوران کشیدگی کی خبریں میڈیا پر ہی ہوں گی لیکن درحقیقت ایسا کچھ نہیں۔
مزید پڑھیں: آصف زرداری نے ساڑھے 13 برس سیاسی قید میں گزارے جو منفرد مقام ہے، بلاول بھٹو
دوسری جانب سینیئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے صدر زرداری کے بیان پر کہا کہ صدر مملکت کے منصب کا تقاضا ہے کہ گفتگو میں تحمل اور شائستگی برقرار رکھی جائے۔
ان کے مطابق صدر زرداری کچھ غصے میں نظر آئے اور عمران خان کو جلی کٹی سنادیں حالانکہ ایک صدر یا بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کو ایسے موقعے پر طعن و تشنیع سے گریز کرنا چاہیے۔
مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ اگر کسی کے غم یا مشکل میں شریک نہیں ہوا جا سکتا تو کم از کم خاموشی اختیار کرنا بہتر ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آصف علی زرداری خود طویل قید اور سخت مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں اس لیے ان سے توقع نہیں تھی کہ وہ اس نوعیت کی گفتگو کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاک چین دوستی نسل در نسل آگے بڑھے گی، صدر مملکت آصف زرداری کی شنگھائی میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں
مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ بڑے آدمی کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے اور زرداری ایک وسیع ظرف کے حامل سیاستدان سمجھے جاتے ہیں اس لیے انہیں اپنے منصب صدارت اور سیاسی امیج دونوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف زرداری کا عمران خان کے خلاف بیان صدر مملکت آصف علی زرداری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صف زرداری کا عمران خان کے خلاف بیان صدر مملکت ا صف علی زرداری علاج کے لیے اسپتال صف علی زرداری پیپلز پارٹی صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے تھا کہ
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔