صدر مملکت آصف علی زرداری کے حال ہی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران سخت لہجے نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو‘، آصف زرداری کا نام لیے بغیر عمران خان پر طنز

آصف زرداری نے حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ میرا مشورہ مانیں تو انہیں ملک چلا کر دکھا دوں گا، ساتھ ہی بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیڈر کا تو کام ہی لڑنا اور جیلوں میں جانا ہے لیکن آج لیڈر ایسے ہیں کہ ڈیڑھ سال نہیں ہوا جیل میں اور انہوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کبھی وہ کہتے ہیں کہ میری آنکھ میں درد ہے کبھی کہتے ہیں یہاں دودھ نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو ان کی بڑکیں ہیں وہ صرف دکھانے اور بولنے کی ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے وی نیوز کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کی تقریر کو غلط تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، صدر نے یہ گفتگو خالصتاً اپنے ذاتی تجربات اور جیل میں برداشت کی گئی سختیوں کے حوالے سے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی ہوتیں اور وہاں ایک مخصوص اور مشکل ماحول ہوتا ہے لیکن قید کے دوران صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔

مزید پڑھیے: ایک بیوقوف آدمی نے ساری دنیا سے تعلقات خراب کردیے تھے، آصف زرداری کی عمران خان پر تنقید

عمران خان سے ملاقات اور علاج کے لیے اسپتال منتقلی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے قمر زمان قائرہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی تو یہ مطالبہ بھی کر چکی ہے کہ عمران خان کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے اور اگر طبی بنیادوں پر ضرورت ہو تو انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔

ان کے مطابق عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی یا علاج کے لیے اسپتال منتقلی کا فیصلہ حکومت کا اختیار ہے اور پیپلز پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

قمر زمان قائرہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عمران خان کا بروقت علاج کیوں نہیں کرایا گیا اور اس معاملے پر علیحدہ تحقیق ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتی ہے یا انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پیپلز پارٹی نے عمران خان کو قید نہیں کرایا۔

حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو حکومت سے جو بھی شکایات ہوتی ہیں ان کا کھل کر اظہار کیا جاتا ہے، وزیراعظم اور صدر کی ملاقات کے دوران کشیدگی کی خبریں میڈیا پر ہی ہوں گی لیکن درحقیقت ایسا کچھ نہیں۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری نے ساڑھے 13 برس سیاسی قید میں گزارے جو منفرد مقام ہے، بلاول بھٹو

دوسری جانب سینیئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے صدر زرداری کے بیان پر کہا کہ صدر مملکت کے منصب کا تقاضا ہے کہ گفتگو میں تحمل اور شائستگی برقرار رکھی جائے۔

ان کے مطابق صدر زرداری کچھ غصے میں نظر آئے اور عمران خان کو جلی کٹی سنادیں حالانکہ ایک صدر یا بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کو ایسے موقعے پر طعن و تشنیع سے گریز کرنا چاہیے۔

مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ اگر کسی کے غم یا مشکل میں شریک نہیں ہوا جا سکتا تو کم از کم خاموشی اختیار کرنا بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آصف علی زرداری خود طویل قید اور سخت مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں اس لیے ان سے توقع نہیں تھی کہ وہ اس نوعیت کی گفتگو کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پاک چین دوستی نسل در نسل آگے بڑھے گی، صدر مملکت آصف زرداری کی شنگھائی میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں

مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ بڑے آدمی کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے اور زرداری ایک وسیع ظرف کے حامل سیاستدان سمجھے جاتے ہیں اس لیے انہیں اپنے منصب صدارت اور سیاسی امیج دونوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف زرداری کا عمران خان کے خلاف بیان صدر مملکت آصف علی زرداری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا صف زرداری کا عمران خان کے خلاف بیان صدر مملکت ا صف علی زرداری علاج کے لیے اسپتال صف علی زرداری پیپلز پارٹی صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے تھا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل