کراچی کی قدیم ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری کی تنگ گلیوں میں 2 خاندانوں کے لیے وقت جیسے تھم سا گیا ہے۔ وہ ایک ایسے اذیت ناک سوال کے ساتھ جی رہے ہیں جس کا جواب تاحال نہیں مل سکا، اور وہ ہے: ان کے بچے گھر کب آئیں گے؟

10 سالہ ظہیر اور 14 سالہ حبیب اللہ 5 جنوری کی صبح اسکول کی سردیوں کی چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے چچا کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے کے لیے نکلے تھے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے 73 ماہی گیر میانمار کی قید سے آزاد کروالیے گئے

قریباً 2 ماہ گزرنے کے بعد بھی ان کے والدین تاحال انتظار میں ہیں، ان کے پاس اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں کہ ان کے بچے کدھر گئے، تاہم ایک خوف ہے کہ شاید بچوں کو متنازع سمندری حدود پار کرنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اپنے معمولی سے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے ظہیر کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد سے گزرنے والا ہر دن حکام کی خاموشی کی نذر ہو رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’میرا بچہ صرف 10 سال کا ہے، اسے تو سرحدوں کی سمجھ بھی نہیں ہے۔ ہم بار بار صوبائی حکومت کے دفاتر گئے، لیکن کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔‘

حبیب اللہ کی والدہ اپنے نوعمر بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’وہ سمندر میں اس لیے گیا تھا کیونکہ مچھلی پکڑنا ہی ہماری زندگی ہے۔ وہ ایک بچہ ہے، مجرم نہیں ہے۔ ہم نے وزارتِ خارجہ سے بھی رابطہ کیا، لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ ہم بس اپنے بچوں کی واپسی چاہتے ہیں۔‘

ان خاندانوں کے مطابق سندھ حکومت کے محکموں اور وزارتِ خارجہ کو درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں جن میں فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ بچوں کی کم عمری کو انسانی بنیادوں پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

پاکستان فشر فوک فورم جو سمندری حدود کی غیر واضح نشاندہی کی وجہ سے ماہی گیروں کی گرفتاریوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، کا کہنا ہے کہ یہ کیس کمزور کمیونٹیز کے تحفظ میں مسلسل ناکامی کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ کہتے ہیں، ’یہ کوئی اکا دکا واقعہ نہیں ہے۔ سمندری سرحدیں متنازع ہونے اور سمندر میں نظر نہ آنے کی وجہ سے ماہی گیر اکثر گرفتار ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن کم سن بچوں کی گرفتاری ناقابلِ قبول ہے۔‘

مہران علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ معاہدے موجود ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ مفاہمت کے تحت شہریت کی تصدیق اور سزا مکمل ہونے کے بعد قیدیوں کو ایک ماہ کے اندر رہا کرکے وطن واپس بھیج دیا جانا چاہیے، لیکن حقیقت میں خاندانوں کو مہینوں یا سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے فوکل پرسن برائے ماہی گیر کمال شاہ کا کہنا ہے کہ سیاسی تناؤ اور قونصلر رسائی میں سستی کی وجہ سے یہ عمل اکثر تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں، ’سمندری حدود متنازع ہیں اور یہ پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں۔ تصدیق اور رسائی میں وقت لگتا ہے، لیکن یہ تاخیر خاندانوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ بچوں سے متعلق کیسز میں اس عمل کو تیز کیا جانا چاہیے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اکثر ماہی گیروں کے پاس نیویگیشن کے آلات اور باقاعدہ تربیت کی کمی ہے۔ ’یہ لڑکے اپنے خاندانوں کی بقا کے لیے سمندر میں گئے تھے۔ ان کا سرحدیں پار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ غربت ایسے لوگوں کو روزانہ خطرے میں دھکیلتی ہے۔‘

ابراہیم حیدری کے ان خاندانوں کے لیے اب یہ انتظار برداشت کا امتحان بن چکا ہے۔ مائیں روزانہ شام کو ساحل کی طرف نظریں جمائے کسی خبر کی امید لگاتی ہیں۔ باپ دفاتر کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، ہاتھوں میں وہ دستاویزات تھامے جن سے اب تک کوئی جواب نہیں مل سکا۔

مزید پڑھیں: کراچی: قدیم بستی صالح آباد کے ماہی گیروں کے سلگتے مسائل

حبیب اللہ کے والد خاموشی سے کہتے ہیں، ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، ہم صرف اپنے بچوں کا گھر واپسی کا حق مانگ رہے ہیں۔

کراچی کے ساحل سے کشتیاں بدستور روانہ ہو رہی ہیں، لیکن ظہیر اور حبیب اللہ کا یہ کیس ماہی گیر بستیوں کو درپیش اس گہرے بحران کی نشاندہی کرتا ہے جہاں غیر واضح سرحدیں، سست سفارت کاری اور معاشی مجبوری آپس میں ٹکراتی ہیں، اور خاندان سمندر اور خاموشی کے درمیان پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews کراچی کمسن بچے ماہی گیر وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کراچی کمسن بچے ماہی گیر وی نیوز خاندانوں کے حبیب اللہ ماہی گیر کہتے ہیں بچوں کی کے لیے کے بعد

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف