اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے ٹینڈر اشتہار میں غیر ظاہر شرائط  شدہ کی بنیاد پر لاگت سے اضافی رقم مانگنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل کے بعد  اپنا پہلا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ٹینڈر اشتہار میں غیر ظاہر شدہ شرائط کی بنیاد پر اضافی سیکیورٹی مانگنا غیر قانونی اور من مانی ہے۔

عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اتھارٹی کی اپیل خارج کر دی ۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے کمپنی کی درخواست پر اتھارٹی کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، جس پر فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کی، جس کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی نے مئی 2011 میں سڑک کی تعمیر کے لیے ٹینڈر کا اشتہار جاری کیا تھا ۔ میسرز برادرز کنسٹرکشنز نامی کمپنی اس بولی میں 138.

65 ملین روپے کی لاگت پر کامیاب ہوئی  اور کمپنی نے طے شدہ ریٹس کے مطابق 2 فیصد بیعانہ یعنی 2.773 ملین روپے جمع کروا دیے تھے ۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید بتایا کہ بعد ازاں اتھارٹی نے ایک انجینئر تخمینے کا حوالہ دے کر کمپنی سے 8 فیصد اضافی سیکیورٹی مانگ لی ، جس پر کمپنی نے اضافی رقم دینے سے انکار کیا تو اتھارٹی نے ان کی بولی مسترد اور بیعانہ ضبط کر لیا ۔ ساتھ ہی اتھارٹی نے کمپنی پر 6 ماہ کی پابندی لگاتے ہوئے اسے بلیک لسٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ جس انجینئر تخمینے پر اضافی رقم مانگی گئی اس کا ذکر اشتہار میں نہیں کیا گیا تھا ۔ اشتہار میں دی گئی لاگت سے ہٹ کر رقم مانگنا شفافیت کے خلاف ہے۔ پوشیدہ شرائط کی بنیاد پر اضافی سیکیورٹی کا مطالبہ کرنا ایک من مانی کارروائی ہے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹینڈر بولی شروع ہونے کے بعد قوانین بدلنا اصولوں کے منافی ہے ۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت کی بنیاد پر اتھارٹی نے اشتہار میں اضافی رقم عدالت نے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں