پاسدارانِ انقلاب کا پاور شو، آبنائے ہرمز میں ایران کی بڑی جنگی مشقیں شروع
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ’’اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز‘‘ کے نام سے بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ مشترکہ جنگی مشقیں اہم اسٹریٹجک علاقے میں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشقوں کا مقصد بحری یونٹس کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا اور ممکنہ سکیورٹی و فوجی خطرات کی صورت میں فوری اور مؤثر ردعمل کی صلاحیت کو پرکھنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان مشقوں میں آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے علاقوں میں ایران کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی حکمت عملی کا عملی مظاہرہ بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشقیں ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے اشارے سامنے آئے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور یہاں ہونے والی کسی بھی عسکری سرگرمی پر عالمی منڈیوں کی گہری نظر رہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔