اسٹیٹ بینک نے صارفین کے تحفظ کے لیے ’’سائبر شیلڈ ‘‘ متعارف کرا دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی بینک نے اپنے وژن 2028 کے ایجنڈے کے تحت’’سائبر شیلڈ-زیر ضابطہ اداروں کے لیے سائبر پائیداری کی حکمت عملی‘‘ متعارف کی جس کا مقصد ملک کے بینکاری اور مالی نظام کی حفاظت اور مضبوطی میں مزید اضافہ کرنا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ حکمت عملی بینکوں اور مالی اداروں کو سائبر خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے تا کہ عام لوگ اور کاروباری ادارے محفوظ طریقے سے مالی خدمات تک رسائی حاصل کرتے رہیں۔
کراچی؛ سائٹ ایریا، ولیکا چورنگی پر فیکٹری میں آگ لگ گئی
اس ضمن میں مالی اداروں کو ایک واضح روڈمیپ دیا گیا ہے تاکہ ان کے سسٹمز اور کنٹرولز کی تقویت میں مدد دی جائے ، سائبر واقعات کی روک تھام ہو، سائبر خطرہ حقیقت بننے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جائے اور ایسے واقعات سے موثرانداز میں عہدہ برآ ہوا جائے ۔چونکہ بینکوں کے ایکو سسٹم کو جدید ترین سائبر خطرات کا سامنا ہے، لہٰذا اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ زیر ضابطہ اداروں کے سائبر دفاع کو ایک اجتماعی، مستقبل بین اور مشترکہ طرز فکر کے تحت مزید مضبوط بنایا جائے۔
اس میں پانچ اہم ترجیحات پر توجہ دی گئی ہے: سائبر خطرات سے نمٹنے میں بینکوں کی صلاحیت کو تقویت دینا، سائبر سکیورٹی کا نظم و نسق اور احتساب بہتر بنانا، پورے مالی شعبے میں باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی ، مہارت یافتہ سائبر ٹیلنٹ کی تیاری اور نئے خطرات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے سکیورٹی طریقوں کو مسلسل جدید بنانا۔
نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ
سٹیٹ بینک عالمی اور ملکی سائبر پیش رفت دونوں پر کڑی نظر رکھے گا اور ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے جب بھی ضرورت پڑی اسے اپ ڈیٹ کرے گا۔ سٹیٹ بینک چاہتا ہے کہ پورے بینکاری شعبے میں سائبر مضبوطی کو تقویت دےکر صارفین کا تحفظ کیا جائے ، ڈیجیٹل جدت طرازی کو ایک محفوظ ماحول ملے اور مالی استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جا ئے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔