کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، سی ٹی ڈی سے مقابلہ، 4 دہشتگرد ہلاک، 2 اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) سی ٹی ڈی نے کراچی کو بڑی دہشت گردی سے بچا لیا۔
شہر قائد کے علاقہ شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، سی ٹی ڈی نے گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر ایک گھر پر چھاپہ مارا تو اندرموجود دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی۔
فائرنگ سے دو پولیس اہلکار اور نشاندہی کیلئے لائے گئے تین دہشتگرد زخمی ہو گئے، سی ٹی ڈی نے گھر میں موجود ایک دہشتگرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا، کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلی، زخمی دہشتگرد ہسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہو گئے۔
ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید شامل ہے، جبکہ مارے گئے ایک دہشتگرد کی شناخت نہیں ہوسکی، گھر کے اندر ڈرموں میں آئی ڈیز تیار کی گئی تھیں، بم ڈسپوزل سکواڈ نے سرچنگ کے بعد گھر سے ڈیٹونیٹرز، ڈیٹونیٹک وائر اور سرکٹ بھی برآمد کر لئے۔
بم ڈسپوزل سکواڈ نے بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا، زخمی سی ٹی ڈی اہلکاروں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ مارے گئے دہشتگردوں کے مزید ساتھیوں کو پکڑنے کیلئے بھی کارروائی شروع کر دی گئی۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق زخمی پولیس اہلکاروں میں ہیڈ کانسٹیبل محمد یوسف اور سپاہی راجہ جنید شامل ہیں، جن کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنۃ الہندوستان بشیر زیب نیٹ ورک سے تھا، 2 سے 3 دہشتگرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی نے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔