پاکستان کے سابق کرکٹر شعیب اختر نے اپنے حالیہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

شعیب اختر نے واضح کیا کہ میں نے جو اصطلاحات استعمال کیں جیسے ’نااہل‘ اور ’جاہل‘، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے محسن بھائی کو نشانہ بنایا۔ میرا اشارہ ان افراد کی طرف تھا جو انٹرنیشنل کرکٹ چلا رہے ہیں۔ تاہم انڈین ٹی وی نے اسے غلط انداز میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جسے کرکٹ کا نہیں پتا وہ بورڈ کا چیئرمین ہے، جاہل بندے کو بڑی ذمہ داری دینا سب سے بڑا جرم، شعیب اختر

انہوں نے مزید کہا کہ اسی پروگرام میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ محسن بھائی کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں ہونی چاہیے، یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔ محسن نقوی ایک اچھے انسان ہیں اور وہ پاکستان کرکٹ کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

انڈین میڈیا ہر Incompetent جو میں نے کہا جاہل جو میں نے کہا وہ لگتا ہے کہ شاید میں نے محسن بھائی کی طرف کہا ، incompetence in larger propestive way جو چیز میں کہی تھی، incompetence اور جو جاہل بندہ ہوتا ہے وہ کسی بھی ادارے کو تباہ کر سکتا ہے، شعیب اختر pic.

twitter.com/tpznh4mIZM

— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) February 16, 2026

واضح رہے کہ سابق فاسٹ باولر شعیب اختر نے پاک بھارت میچ میں پاکستان کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جسے کرکٹ کا نہیں پتا وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین ہے، ایسے میں ٹیم کیسے جیتے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’میں نے اپنا وکیل کرلیا‘، ڈاکٹر نعمان کے نوٹس ملنے پر شعیب اختر نے کیا پیغام دیا؟

بھارتی چینیل پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نالائق اور جاہل بندے کو بڑی ذمہ داری دینا سب سے بڑا جرم ہے، ایسا شخص ملک اور ادارے کو تباہ کرے گا، مثال آپ کے سامنے ہے۔

سابق کرکٹ اسٹار نے کہا کہ انڈیا کی ٹیم بہت آگے چلی گئی ہے، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ایسے بندے کو اسٹار بنایا ہے جو 10 اوورز بھی نہیں کرسکتا، ایسے لوگوں کو اسٹار بناؤ گے تو یہی ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان انڈیا میچ پاکستان کرکٹ پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی شعیب اختر شعیب اختر بیان شعیب اختر وضاحت محسن نقوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان انڈیا میچ پاکستان کرکٹ پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی شعیب اختر بیان محسن نقوی پاکستان کرکٹ نے کہا

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی