بنگلادیش: محمد یونس نے اقتدار منتخب حکومت کو سونپ دیا، عبوری دور کا اختتام
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: بنگلادیش میں سیاسی عبوری مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے اور عبوری سربراہ محمد یونس نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق 85 سالہ نوبیل امن انعام یافتہ رہنما نے اپنے الوداعی پیغام میں کہا کہ عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں مکمل کر چکی ہے اور اب اقتدار منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت، آزادیٔ اظہار اور بنیادی حقوق کے فروغ کا جو سفر شروع ہوا ہے، اسے ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے عوام، ووٹرز اور ریاستی اداروں کو شفاف انتخابی عمل پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ حالیہ انتخابات نے مستقبل کے لیے ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔
واضح رہے کہ محمد یونس اگست 2024 میں اس وقت وطن واپس آئے تھے جب سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے نتیجے میں ملک سے فرار ہوگئی تھی۔
اس سیاسی ہلچل کے بعد ملک میں عبوری انتظام قائم کیا گیا جس کی قیادت محمد یونس نے بطور چیف ایڈوائزر سنبھالی۔ انہوں نے اس تبدیلی کو قوم کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ نوجوانوں نے ملک کو ایک مشکل دور سے نکالا۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پارٹی کے سربراہ طارق رحمٰن آج وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا کر 17 کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت سنبھالیں گے۔
مبصرین کے مطابق نئی حکومت کو معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور عوامی توقعات پر پورا اترنے جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے، جبکہ عبوری دور کا اختتام بنگلادیشی سیاست میں ایک نئے باب کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد یونس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔