بنگلہ دیش کے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) بنگلہ دیش کی تیرہویں جاتیہ سنگسد کے نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا۔
چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم نصیرالدین نے ارکان پارلیمنٹ سے حلف لیا، نامزد وزیراعظم طارق رحمان نے بھی بطور رکن پارلیمان حلف اٹھایا۔
اس کے بعد ارکان پارلیمان نامزد وزیراعظم کے لیے حق رائے دہی استعمال کریں گے جس کے بعد مرحومہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان بطور وزیراعظم حلف اٹھائیں گے، وزیراعظم اور کابینہ کی شام کو ہونے والی حلف برداری تقریب میں ملکی و غیر ملکی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔
وزیراعظم اور کابینہ کی حلف برادری کی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف کی جگہ وفاقی وزیر احسن اقبال کر رہے ہیں، احسن اقبال بنگلہ دیش میں اعلیٰ سطح کے حکام سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے حالیہ عام انتخابات میں دو سو بارہ نشستیں حاصل کر کے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کی، جس کے بعد حکومت سازی کی راہ ہموار ہوئی۔
قبل ازیں بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے کہا کہ عبوری حکومت سبکدوش ہو رہی ہے، عام انتخابات میں ووٹرز، سیاسی جماعتوں نے مثال قائم کی۔
انہوں نے یہ اعلان قوم سے خطاب کے دوران کیا جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت اب سبکدوش ہو رہی ہے اور نئی منتخب حکومت کے آنے کا راستہ ہموار ہو چکا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ بنگلہ دیش میں جمہوری عمل، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کو جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی شاندار کامیابی کی بھی تعریف کی اور پارٹی کے سربراہ طارق الرحمان کو مبارکباد دی، محمد یونس نے کہا کہ انتخابات میں ووٹرز اور سیاسی جماعتوں نے ایک مثال قائم کی ہے، جس سے مستقبل میں جمہوری طریقہ کار مضبوط ہو گا۔
واضح رہے کہ عبوری حکومت تقریباً 18 ماہ سے ملک چلا رہی تھی، اس دوران محمد یونس نے 2024ء میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی عبوری دور کی قیادت کی، عام انتخابات کرائے اور جین زی کے مطالبات پر مبنی آئینی اصلاحات کے لیے ریفرنڈم بھی کرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔