پاکستان اور آسٹریا میں دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، وزیراعظم نے آسٹریا کے چانسلر کو دورے کی دعوت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد /ویانا ( مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریا کے چانسلر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دے دی۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ویانا میں آسٹریا کے چانسلر سے ملاقات ہوئی۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور آسٹریا نے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔
محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے فیلڈمارشل کے سامنے بات کی، علی امین گنڈا پور کا دعویٰ
وزیراعظم کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم اور آسٹریا کے چانسلر نے مشترکہ صدارت میں بزنس فورم کا انعقاد کیا اور پاکستانی اور آسٹرین کمپنیوں کے درمیان کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اور اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آسٹریا کے چانسلر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی بھی دعوت دی۔
سوڈان ، بازار پر ڈرون حملے میں 28 افراد ہلاک
قبل ازیں وزیرِاعظم شہباز شریف کے اعزاز میں آسٹرین چانسلری ویانا میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹارکر نے وزیرِ اعظم پاکستان کو خوش آمدید کہا۔اس موقع پر آسٹرین مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو سلامی دی۔ استقبالیہ تقریب کے آغاز پر پاکستان اور آسٹریا کے قومی ترانے بجائے گئے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آسٹرین چانسلر کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور آسٹرین چانسلر سے اپنے وفد کا تعارف کرایا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان اور آسٹریا آسٹریا کے چانسلر اعظم شہباز شریف پر اتفاق کے مطابق کیا گیا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔