کیا یورپ بھی امریکا جیسی امیگریشن پالیسی اپنا رہا ہے؟ انسانی حقوق کی 70 تنظیموں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
برسلز: انسانی حقوق کی 70 تنظیموں نے یورپی یونین کی نئی مجوزہ امیگریشن پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے امریکی صدر کے دور کی امیگریشن پالیسی سے تشبیہ دی ہے۔ تنظیموں نے یورپی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسودے کو مسترد کر دے۔
ان تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں خبردار کیا کہ نئی اصلاحات کے تحت رکن ممالک کو غیر دستاویزی تارکینِ وطن کی نشاندہی کا پابند بنایا جا سکتا ہے، جس سے عوامی مقامات، نجی جگہوں اور سرکاری خدمات کو امیگریشن کنٹرول کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ خط میں پولیس چھاپوں اور نسلی امتیاز (ریشل پروفائلنگ) پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
تنظیم PICUM کی نمائندہ مشیل لی ووائے نے کہا کہ یورپ کو امریکا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے یورپ میں ویسی ہی پالیسیاں نہیں اپنانی چاہئیں۔
یورپی کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی اصلاحات میں ایسے مراکز قائم کرنے کی تجویز شامل ہے جو یورپی یونین سے باہر ہوں اور جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں کو رکھا جا سکے۔ ان مراکز کو “ریٹرن ہبز” کہا جا رہا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت یورپ چھوڑنے سے انکار کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں، طویل حراست اور شناختی دستاویزات کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ اصلاحات یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک کی حمایت حاصل کر چکی ہیں، تاہم یورپی پارلیمنٹ میں بائیں بازو کے ارکان اور مہاجرین کے حقوق کی تنظیمیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بنیادی انسانی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جا رہے ہیں اور یورپ میں عوام کی اکثریت ان کی حمایت کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔