قومی اسمبلی کمیٹی کی نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے پر نیپرا پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری حکام نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔
اجلاس کی صدارت سید حفیظ الدین نے کی، جنہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں ترمیم سے حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب ریگولیٹر آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا احترام کر سکتا ہے تو صنعتوں اور شہریوں کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت کی گئی سرمایہ کاری کا بھی احترام ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی یونٹس نے حکومتی پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے سولر سسٹمز نصب کیے، لیکن اچانک تبدیلی سے وہ شدید ابہام اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔
کمیٹی ارکان اور سیکریٹری صنعت نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے سرمایہ کاروں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد متاثر ہوگا اور صنعتیں متبادل اور صاف توانائی اپنانے سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔ کمیٹی نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی بنیاد کسی جامع اور معقول مطالعے پر مبنی نظر نہیں آتی۔
اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے کئی منصوبے مسترد کرتے ہوئے پلاننگ کمیشن سے ان کی مانیٹرنگ رپورٹس طلب کر لیں اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر برہمی کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہا کہ اگرچہ کووڈ، ڈالر بحران اور حکومت کی تبدیلی کے اثرات موجود رہے، تاہم بیشتر منصوبے 6 سے 9 سال کی تاخیر کا شکار ہیں اور کمیٹی کو فراہم کی جانے والی بریفنگز بھی نامکمل ہوتی ہیں، جس سے ترقیاتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔