Juraat:
2026-07-23@23:51:01 GMT

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

مغربی دنیا نے تصورات کی دلدل میں جمہوریت کو جو رومانوی ورق دیا ہے، وہ ایک چھوٹے سے بوتھ میں کاغذ پر قلم سے ایک چھوٹا کراس لگانے سے منسلک ہے۔ عوام کو اپنے نمائندے اپنی مرضی سے چننے کاحق، یعنی انتخابی نمائندگی۔ کیا دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں یہ انتخابی نمائندگی عوام کی حقیقی خواہشات کی مکمل عکاس ہوتی ہے؟ اس سوال سے خود مغربی دانشور بھی تذبذب کے ساتھ نبرد آزما رہتے ہیں۔ درحقیقت متعدد ترقی پزیر ممالک میں جمہوریت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ مغربی (بالخصوص امریکی) مداخلتوں کا مکروہ چہرہ بن کر ایک بے توقیر کھیل بن چکا ہے۔ اس عمومی زاویۂ فکر کے باوجود جب ہم بنگلہ دیش کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو ایک دوسرا تناظر بھی پیدا ہو تا ہے۔ ہم پاکستانیوں کے لیے بنگلہ دیش ایک ‘دوسرا ‘ملک ہونے کے باوجود اپنے جسم وجان کی طرح ہے۔ یہ احساس ہماری تاریخ کی ڈراونی یادوں سے مل کر زیادہ حساسیت پیدا کر لیتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ایسی تاریخ میں جڑیں رکھتے ہیں جہاں بہت سی پریشان کن مشترکات ایک دوسرے کے لیے صبر آزما بنتی ہیں، 55سال اُدھر کے بنگلہ دیش نے جن ”رویوں ”کا سامنا ‘یہاں’ سے کیا تھا، اب وہ موجودہ پاکستان کے گلی کوچوں کا نظارا بھی بن گئے ہیں۔ انتخابات کا موضوع کوئی سادہ نہیں۔جمہوریت نمائندگی کے نام پر ہی دھوکا دیتی ہے، مگر خود نمائندگی کو بھی دھوکا بنا دے تو جغرافیے تک بدل جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش اس کی ایک دل دہلا دینے والی مثال ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترک تاریخ کا یہ تجربہ اندوہناک رہا ہے کہ جمہوریت اور انتخابات طاقت کی تحویل میں رہ کر بھیانک نتائج پیدا کرتے ہیں۔ وہ ذہن کیسے ہوں گے جو انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے لیے ملک کی تقسیم تک گوارا کر لیتے ہوں، اور وہ دانشور کیسی رکاکت رکھتے ہوں گے جو اس پورے رِذالت خیزعمل کے طبلچی رہے ہوں۔

افسوس ناک طور پر پانچ دہائیوں بعد فروری 2024ء کے انتخابات میں فارم 47 کے ذریعے ایک ناجائز حکومت کے قیام میں پوری طاقت
صرف ہوئی تو پاکستانی دانشوروں کی ذہنیت طاقت کی پرستش میں 1971 کے طبلچیوں جیسی ہی ثابت ہوئی۔ یہ مضحک نظارہ بھی چوبیس گھنٹے
تک دیکھنے کو ملا جب بنگلہ دیش میں بی این پی برتری لے رہی تھی تو یہاں فارم 47 سے قائم حکومت کے زیرسایہ مزے کرنے والے
دانشوروں نے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے تیسرے فلور پر غیر معمولی حرکت کے نظارے دیکھ لیے تھے۔ اس مخلوق کو 8 فروری 2024ء
کی رات چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی پراسرار غیابت کا پتہ نہ چل سکا تھا۔ بلوچ کہاوت ہے ” آنکھ اپنے عیب دیکھنے میں اندھی
ہوتی ہے”۔’یہی ذہنیت بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہمیں ایک مجرم کے طور پر پیش کرتی ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کی ایک مشترک تاریخ رہی ہوگی، مگر اب دونوں کے الگ جغرافیے ہیں۔ قومی ریاستوں کا جبر یہ ہے کہ یہ نظریات اور سماج کے بہتے دھارے بھی گرفت میں لے لیتی ہیں، پاکستان میں تو یہ جبر اس قدردراز تر، تیرہ تراور محیط تر ہے کہ اس نے اسلام ایسے نظریے کی تعبیر بھی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور خالص فقہی اور اسلامی اصطلاحات کی تشریحات و تعبیرات سے بھی علمائے کرام کو دور پرے دھکیل دیا ہے۔ یہ تباہ کن طرزِ فکر بنگلا دیش کو سمجھنے میں وہی فاش غلطی کرا سکتا ہے جو افغانستان کے باب میں مسلسل کی جا رہی ہے۔ افغانستان کو الگ ملک نہ سمجھنے کی غلطی نے طالبان کو” ہمارے بچوں” سے ”ہمارے دشمن” تک دھکیل دیا۔ یہاں تک کہ اب دینی ” تعبیرات” کو اس ‘دشمنی’ پر صرف کیا جا رہا ہے۔ اُدھرافغانستان میں قومی ریاست کے جبر اور تقاضوں نے طالبان کو بھارت ایسی مشرک اور اسلام دشمن ریاست کی طرف دیکھنے کی مجبوری میں مبتلا کر دیا ہے۔ واضح ہے کہ بنگلہ دیش ایک قومی ریاست ہے جس کے افغانستان کی طرح اپنے مفادات ہیں۔

بنگلہ دیش کی سیاسی سطح اور سیاسی حرکت موجودہ پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ 1971ء میں امریکی جریدے نیوز ویک نے اِسے ایک پارہ صفت (mercurius) قوم لکھا تھا۔ اپنے تمام تعصبات اور رجحانات کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو 1947 میں آزادی کے صرف 24 برس بعد اس قوم نے پاکستانی اشرافیہ سے اپنی جان چھڑانے کے فیصلے پر عمل درآمد کر کے دکھایا۔ یہ کسی بھی نوزائیدہ ریاست میں ایک نہایت قلیل عرصہ ہے مگر بنگالی قوم کی سیاسی حرکت لمبا انتظار نہیں کرتی۔ حسینہ واجد سے نجات کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ اس سے قبل بنگلہ دیش کے قیام سے لے کر اب تک اس کی تاریخ میں جو اتار چڑھاؤ آتے رہے، اس میں سیاسی حرکت ایک اہم عامل رہی۔ فوجی انقلابات سے جان چھڑائی گئی، جس کی بھینٹ شیخ مجیب (15 اگست 1975) اور جنرل ضیاء الرحمان (30مئی 1981) بھی چڑھے۔ ان دو انقلابات نے حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی شکل میں جو چہرے دیے، وہ بھی ایک دوسرے کو زیر کرنے میں کَھپتے رہے۔ حسینہ واجد نے اپنے پندرہ سالہ اقتدار کا جو غیر متوقع زوال دیکھا ہے، وہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم سبق بن سکتا ہے۔ دو سال قبل وہ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے اپنے پندرہ سالہ اقتدار کو طول دینے کے راستے پر گامزن تھی، فوجی سربراہ اُن کا رشتہ دار تھا۔ مخالفین دار پر لٹکائے جا رہے تھے، سب سے مضبوط سیاسی حریف خالدہ ضیاء زنداں میں اپنے بیمار وجود کے ساتھ موت کا انتظار کر رہی تھیں۔ بھار ت حسینہ کی پشت پر تھا، اور دھاندلی زدہ انتخابات کو پاکستان کی طرح امریکا سے منوا لیا گیا تھا، جس میں نریندر مودی نے چین کا خوف دلا کر امریکا کو آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔یوں دیکھا جائے تو بنگلہ دیش کی قومی سیاست میں شدید عوامی حمایت سے واپسی کرنے والی بی این پی صرف دوسال قبل اپنی بقا کے مسئلے سے دوچار تھی۔ بی این پی کی موجودہ قیادت اور متوقع وزیراعظم طارق رحمان اٹھارہ ماہ قید کاٹ کر ایک خاموش معاہدے کے تحت جلاوطن تھے، جبکہ اُن کی والدہ خالدہ ضیاء 2018 سے زنداں میں تھیں۔ بی این پی ایک ماند جماعت اور خالدہ ضیاء کا خاندان بجھتے لو کی آخری لڑکھڑاہٹوں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اپنی سترہ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹنے کے صرف پانچ روز بعد طارق رحمان کو اپنی والدہ خالدہ ضیاء (30 دسمبر 2025ء) کی وفات کا غم سہنا پڑا۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ حسینہ واجد کی بھارت کی پشت پناہی سے طاقت ور حکمرانی اور بی این پی کے لاغر وجود سے اچانک اتنی بڑی تبدیلی رونما ہو جائے گی۔ اگرچہ عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) باری باری اقتدار میں آنے کے دہائیوں پرانے کھیل کا حصہ رہی ہیں۔ مگر اس مرتبہ یہ سب الگ طریقے سے رونما ہوا ہے۔ اور الگ طرح کے نتائج دے سکتا ہے۔ مگر یاد رہنا چاہئے کہ پاکستان سے علیحدگی کی تحریک کو بنگلہ دیش میں ”جنگ آزادی” قرار دیا جاتا ہے۔ اور طارق رحمان بھلے ہی سی ایم ایچ لاہور میں پیدا ہوئے ہوں، وہ ضیاء الرحمان کے صاحبزادے ہیں، اور ضیاء الرحمان بھلے ہی کراچی کے لائنز ایریا میں رہے ہوں، اُنہیں بی این پی اپنا بانی اور ”جنگ آزادی” کا رہنما قرار دیتی ہے۔ یاد تو یہ بھی رہنا چاہئے کہ صرف دو سال میں اقتدار کی کایا کلپ بھی ہو سکتی ہے۔ زوال، عروج اور عروج، زوال کی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں فارم 47 کی جعلی حکومت کے نمائندے بن کر وفاقی وزیر احسن اقبال بنگلہ دیش کی بی این پی حکومت کا سامنا کیسے کریںگے، جہاں ‘جنگ آزادی’ کی ‘اپنی’ تاریخ کا سچ یہ تحریر ہے کہ مغربی پاکستان کی طاقت ور اشرافیہ نے ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں کیا تھا، اب 55 برس بعد مینڈیٹ کے جائز ہونے کا سوال مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی گردن کا طوق بنا ہوا ہے۔ دشمن ملک بھارت میں کانٹے کے بستر پر کروٹیں لیتی حسینہ واجد اس تصویر کو دیکھ کر قدرے راحت سے مسکرا بھی سکتی ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اور بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی حسینہ واجد خالدہ ضیاء بی این پی سکتا ہے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم