معروف اطالوی انفلوئنسر 23 برس کی عمر میں چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
معروف اطالوی سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈیمیانو البرتی 23 سال کی عمر میں کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد چل بسے۔
ان کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں ان کی موت کی تصدیق کی۔
16 فروری کو انسٹاگرام پر جاری کیے گئے بیان میں خاندان نے مختصر مگر جذباتی الفاظ میں لکھا ہے کہ ہم میں سے ایک حصہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گیا، ڈیمیانو اب اُن تمام تکالیف سے آزاد ہیں جن سے وہ گزر رہے تھے۔
اہلِ خانہ نے اُن تمام مداحوں اور حمایتیوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے جو اس مشکل سفر میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیمیانو اپنی آن لائن کمیونٹی سے بے حد محبت کرتے تھے اور جو کچھ انہوں نے سوشل میڈیا پر بنایا، اس پر فخر محسوس کرتے تھے
پیغام کے ساتھ ان کی ایک مسکراتی ہوئی تصویر بھی شیئر کی گئی ہے۔
ڈیمیانو البرتی کی موت کی خبر سامنے آتے ہی مداحوں نے کمنٹس میں غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ڈیمیانو البرتی کے انسٹاگرام پر ہزاروں فالوورز تھے، جہاں وہ لائف اسٹائل سے متعلق مواد شیئر کرتے اور اپنے مداحوں سے باقاعدہ رابطے میں رہتے تھے۔
مئی 2023ء میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں ٹانگ میں مہلک رسولی (کینسر) کی تشخیص ہوئی ہے، انہوں نے مداحوں کو کھل کر بتایا کہ وہ سوشل میڈیا سے کچھ عرصہ کیوں دور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ خبر میرے لیے بہت بھاری تھی، تاہم میں پُرامید رہنے کی کوشش کر رہا تھا اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج شروع کر رہا تھا، میں اس مرحلے کا سامنا کرنے، اسے بہترین انداز میں عبور کرنے اور دوبارہ آپ سب کے پاس لوٹنے کے لیے تیار ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔