شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ چلنے کا ارادہ، بانی جیل نہیں کاٹ سکتے تو کوئی آسان کام کر لیں: آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وہاڑی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے ایک سوچ پر حکومت بنائی ہے، شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے، عمران خان کے دور میں حکومت فیض حمید نے کی، کے پی حکومت مار کٹائی پر اتری ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وہاڑی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے ایک سوچ پر حکومت بنائی، ہم نے مریم بی بی، شہباز شریف کو بھی ووٹ دیا، ہمارا شہباز شریف اورمریم بی بی کے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے، ہم نے صدر کی سیٹ کیلئے بھی ووٹ مانگا۔
اسٹیٹ بینک نے صارفین کے تحفظ کے لیے ’’سائبر شیلڈ ‘‘ متعارف کرا دی
4 سال بانی کی نہیں، فیض حمید کی حکومت تھی
صدر زرداری نے کہا کہ 4سال بانی کی نہیں فیض حمید کی حکومت تھی، فیض حمید کو کیا پتہ کہ کیسے حکومت کرنی اورریلیف دینا ہے، مجھے پتہ تھا بلوچستان کے عوام کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، بلوچوں کو خود ڈیمانڈ دیں کہ یہ مانگو۔
انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کوشش کررہے ہیں،حالات پہلے سے بہتر ہیں، کے پی حکومت مارکٹائی پر اتری ہوئی ہے، انہوں نے ملک بنانا نہیں، انہوں نے خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں کوئی کام نہیں کیا، یہ ملک 4سال رکا رہا، کوئی کام نہیں ہوا، اس شخص کو روز بھاشن دینے کی عادت تھی۔
کراچی؛ سائٹ ایریا، ولیکا چورنگی پر فیکٹری میں آگ لگ گئی
سیاست کرنی ہے تو تکالیف برداشت کرنا ہوں گی
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ٹی وی پر اس کی تقریر آتی تھی، اس شخص کو جیل میں صرف ڈیڑھ سال ہوئے، اس کا بیٹا کہہ رہا ہے کال پر بات نہیں کرائی جاتی، میں نے 14سال جیل کاٹی، جب جیل سے باہر آیا تو میرے بچے قد میں مجھ سے بڑے ہوچکے تھے۔
صدر مملکت نے کہا کہ یہ تکالیف تو آپ کو برداشت کرنا ہوں گی،یہ زندگی کا حصہ ہے، اگر جیل نہیں کاٹ سکتے تو کوئی آسان کام کرلیں، اگر جیل نہیں کاٹ سکتے تو کوئی آسان کام کرلیں، ہر جگہ کرکٹ کلب بناتے کوئی ایک شعبہ اپنا لیتے، اگر سیاست کرنی ہے تو پھر اس میں ہر شعبہ آتا ہے۔
نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ
انہوں نے کہا کہ زراعت ہی مسائل کا حل ہے، میں خود 7 پشتوں سے زمیندار ہوں، اپنے دور میں گندم کی قیمتوں پر لیول پلیئنگ فیلڈ بنائی، پورے سندھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زرعی زمین آباد کی۔
پنجاب کو 30 سال سے کہہ رہا ہوں اپنا پانی راوی سے نکالیں
آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھو دریا ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے، پنجاب کو30سال سے کہہ رہا ہوں اپنا پانی راوی سے نکالیں، ہمیں پانی کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہوگا، ہم نےایک ملین ہیکٹر سے زیادہ مینگروز لگائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ہر چیز کو سنبھل کر، دیکھ کر اورسوچ کر کرتا ہوں، پاکستان بنانے میں سندھ سب سے آگے تھا، سندھ اسمبلی نے پہلے اس کے بعد ڈھاکا اسمبلی نے پاکستان پاس کیا۔
مردان: فائرنگ سے ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر نور بادشاہ جاں بحق
خواتین کو گھروں کے مالکانہ حقوق دے رہے ہیں
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سدا بادشاہی اللہ کی ہے ،انسان نے ختم ہوجانا ہے، بینظیر انکم سپورٹ کارڈ خواتین کو بااختیار بنا نے کیلئے بنایا، سندھ میں زمین خواتین کیلئے تقسیم کی، اب گھر وں کے مالکانہ حقوق بھی خواتین کو دے رہے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ میں اپنے کسانوں کے ساتھ ہوں، ہاری کے پاس چارپیسے کم ہوں تو تکلیف ہوتی ہے، میں کبھی ہاری سے ادھار واپس نہیں لیتا، ہم دنیا میں کاربن کریڈٹس فروخت کررہے ہیں، کاربن کریڈٹس کا پروجیکٹ 10سال سے جاری ہے۔
سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خلیل الرحمٰن خان انتقال کر گئے
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ آلودگی، پانی اورخراب راستے ہیں، سندھو پر 9پل بنواچکا ہوں، ہم نے سندھ میں ڈاکو راج ختم کیا ہے، پنجاب تک سندھ پولیس ڈاکوؤں تک لڑی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری نے زرداری نے کہا شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے فیض حمید کے ساتھ کوئی ا سال سے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :