راستے بند کرنے سے پنجاب سندھ کو فرق نہیں پڑتا،خیبر پی کے میں 13سال سے ایک ہی حکومت،کسی کو نہیں معلوم ترقی کس چڑیا کا نام :مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
لاہور+گجرات (نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگار+ نیوز رپوزٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ تقریب کے سپر ہیرو اور چیف گیسٹ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ بچوں کے چہرے خوشی سے چمک دمک رہے ہیں، پنجاب لیڈ کررہا ہے، پنجاب آگے بڑھ رہا ہے۔ کتنے بچوں کو پنجاب لیپ ٹاپ مل رہے ہیں۔ ہونہار سکالرشپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب محض روایتی تقریب نہیں بلکہ ایک جشن ہے جو ایک ماں بچے کی کامیابی پر مناتی ہے۔ گجرات میں ہونہار سکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں یہاں اپنے بچوں کی فتح منانے آئی ہوں۔ پنجاب کے پاس جتنے وسائل ہیں، دل چاہتا ہے سب اپنے پچوں پر نچھاور کر دوں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بچوں سے کہتی ہوں خواب دیکھو، میں آپ کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑی ہوں۔ اب کوئی بچہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ 100فیصد میرٹ پر سکالر شپ مل رہے ہیں، یونیورسٹی، کالجز اور سب ٹیچرز کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ مظفر گڑھ سے آنے والے بچے کی تکالیف سن کر دل بھر آیا۔ ایک بچی نے بتایا کہ چار بہنوں کے پاس ایک ہی لیپ ٹاپ تھا، باری باری کام کرنا پڑتا تھا۔ اٹک کے پار کے پی کے ہے، جہاں بچوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ہتھیار تھما دیئے جاتے ہیں۔کے پی کے کے معصوم بچوں کے ذہنوں میں تشدد بھر دیا جاتا ہے، جو روزگار بند کرکے ٹائر جلاتے پھرتے ہیں۔ پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اور کے پی کے کے بچوں کے ہاتھ میں پٹرول بم اور ہتھیار تھمائے جاتے ہیں۔ ڈنڈا پکڑو، روزگار بند کردو، سکول بند کردو، نتیجے میں صوبہ بند، قید خانہ آباد ہوجاتا ہے۔ پنجاب کے بچوں کے ہاتھ میں ہونہار سکالر شپ، لیپ ٹاپ اور پرواز کارڈ ہے۔ معصوم لوگ پتھر کے زمانے میں ہیں، انہیں پتہ نہیں ترقی کیا ہے، 13سال سے کے پی کے میں ایک ہی حکومت ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ترقی کس چڑیا کا نام ہے، بس کہتے ہیں شعور دے رہے ہیں۔کے پی کے کے راستے بند کرنے سے پنجاب اور سندھ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ معلوم ہوا راستے بند ہونے کی وجہ سے کے پی کے میں متعدد لوگ ایمبولینس میں جان سے چلے گئے۔ ہڑتال کا اعلان چند ارب پتیوں نے کیا، ڈنڈے پکڑا کر دکانیں بند کرنے کو کہا۔ پنجاب کے ہونہار بچوں کی طرف دیکھیں، یہ اکیلے نہیں ان کے پیچھے سی ایم چٹان بن کر کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں بد تمیزی، شرپسندی کے پی کے کے بچوں کا نصیب نہیں ہوسکتی۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کے پی کے کے بچوں کا مقدر نہیں ہوسکتیں۔ کل ہم جیل میں تھے، آج اللہ تعالیٰ نے اقتدار دے دیا۔ اقتدار مٹھی میں ریت کی طرح پھسلتا ہے، آج اس کے پاس، کل اْس کے پاس ہوگا، اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ 72 سالہ والد جیل میں بیمار ہوگئے، ہارٹ اٹیک ہوا، ان کا اور ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ میں والد کے ساتھ جیل میں تھی، والدہ مرحومہ کو کینسر ہوگیا۔ میری والدہ کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، کہتے تھے وہ بیمار ہی نہیں ہیں۔ میری والدہ لندن کے ہسپتال کے آئی سی یو میں تھیں، کچھ لوگ ڈاکٹر کی یونیفارم پہن کر اندر داخل ہوگئے۔ یہاں انسان کو بیماری ثابت کرنے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔ والدہ کا انتقال ہوا تو والد نے سیل میں آکر بتایا کہ آپ کی والدہ اللہ کے پاس چلی گئیں ہیں۔ حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ نواز شریف صاحب، شہباز شریف صاحب اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ جیل میں اس کا کھانا یا ٹی وی بند کریں۔ نواز شریف صاحب نے کہا ایک اے سی ہے تو اسے دو دے دو۔ سیاست میں نہ ہونے کے باوجود پہلی خاتون کے طور نیب جیل میں بند کیا گیا۔ ان کے پاس لیڈیز جیل نہیں تھی، وہ کہتا تھا کہ نواز شریف کی بیماریوں کو دیکھا تو لمبی لسٹ تھی۔ آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگر بیماریوں کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ سیاست کو دشمنی میں بدلنا غلط ہے، میں بچوں سے کہتی ہوں کہ کبھی ایسے نہیں کرنا، سیاست کو دشمنی میں نہیں بدلنا۔ وقت گھوم کر واپس آتا ہے، سیاسی دشمن کو بھی بد دعا نہ دینا۔ والدہ کی وفات پر میرے والد کا مغموم چہرے کامذاق اڑاتے رہے۔ جو یہ کرتے ہیں بچو آپ نے نہیں کرنا، کسی کا برا نہیں چاہنا۔ جو بیمار ہے اس کی صحت یابی کیلئے دعا کرتے ہیں۔ ذاتیات کو اٹھا کر سیاست سے باہر کردیں، جھوٹ، انتشار اور فتنے کو باہر پھینک دیں۔ کے پی کے کے لوگ بھی اب سوال کرتے ہیں کہ پنجاب کہاں جارہا ہے اور ہم پتھر کے زمانے میں ہیں۔ مجھے اکثر وہ آیت یاد آتی ہے کہ ’’تمہارا رب بھولنے والا نہیں‘‘۔ دوسری جانب مریم نواز نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ایکس پر رمضان المبارک میں بے مثال پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے یکم رمضان المبارک سے ضرورت مند خاندانوں کی فوری مدد کے لئے ’’مریم کو بتائیں‘‘ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ’’مریم کو بتائیں‘‘ پروگرام کے تحت مالی مشکلات کا شکار افراد 24گھنٹے میں 10ہزار روپے تک مالی امداد حاصل کرسکیں گے۔ یکم رمضان المبارک سے ’’مریم کو بتائیں‘‘ ہیلپ لائن 1000فنکشنل ہوگی۔ ضرورت مند افراد ہیلپ لائن پر کال کرکے 10ہزار کی مالی امداد حاصل کرسکیں گے۔ مالی امداد کے خواہش مند افراد ویب پورٹل، یا ایپ پر شناختی کارڈ نمبر درج کرکے ا مداد حاصل کرسکیں۔ شفاف سسٹم کے تحت جانچ پڑتال کے بعد ضرورت مند کو بروقت امداد مہیا کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پیغام میں بتایا کہ ’’مریم کو بتائیں‘‘ پروگرام میں شفافیت کے لئے لائیوٹریکنگ کا سسٹم نافذ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور مانیٹرنگ بھی ہوگی۔''یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ نے سی ایم کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔''سی ایم تے بوہتا احسان کر چھڈیا، پریشان لوکاں نوں حیران کر چھڈیا''۔''اینیاں کرائیاں صفایاں پنجاب وچ، پنڈاں نوں ملتان تے لاہور کر چھڈیا۔'' وزیراعلیٰ کی آمد پر طلبہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تقریب میں وزراء اور ارکان اسمبلی سے نشستوں پر جا کر سلام کیا۔ مریم نواز شریف طالبات کے درمیان بیٹھ گئیں اور طلبہ کی درخواست پر سٹیج پر جا کر ان کے ساتھ قومی ترانہ پڑھا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے طلبہ کے ساتھ'' اے راہ حق کے شہیدو '''' سوہنی دھرتی ''ملی نغمہ گایا اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ یونیورسٹی آف گجرات کی طالبہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سے پر جوش معانقہ کیا۔ طلبہ نے پر اثر ملی نغمہ پیش کیا۔طلبہ کے اعزاز میں لیڈیز پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ تقریب میں ''جرنی آف لیپ ٹاپ '' پر ڈاکومینٹری پیش کی گئی۔ وزیراعلی نے لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ کے چیک تقسیم کیے۔ طلبہ نے پینٹنگز اور سکیچ پیش کیا۔ وزیراعلی نے شفقت کا اظہار کیا۔ طالبات نے اصرار کرکے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے مریم کو بتائیں کے پی کے کے نے کہا کہ ہاتھ میں پنجاب کے بچوں کے لیپ ٹاپ رہے ہیں جیل میں کے ساتھ کے بچوں پیش کی کے پاس
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔