مغربی کنارے سے متعلق اسرائیلی فیصلے کی 8 عرب و اسلامی ممالک کیجانب سے مذمت
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اپنے ایک مشترکہ بیان میں 8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کیجانب سے مغربی کنارے کے ایک حصے کو "ریاستی سرزمین" قرار دیئے جانے اور فلسطینی اراضی کی رجسٹریشن اور وہاں اسرائیلی ملکیت کے قیام کی شدید "مذمت" کی ہے اسلام ٹائمز۔ پاکستان، سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے آج جاری ہونے والے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں پر قبضے سے متعلق تل ابیب کے حالیہ فیصلے کی شدید "مذمت" کی ہے۔ مذکورہ 8 ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے بلکہ خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کی شقوں کے ساتھ بھی متصادم ہے کہ جس میں فوجی قبضے کے دوران شہریوں کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
اس بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ جو 2016 میں منظور کی گئی تھی اور اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کو "قانونی جواز سے عاری" قرار دیا گیا تھا۔ 8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قابض اسرائیلی ریجیم کا حالیہ فیصلہ عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کے ساتھ بھی متصادم ہے۔ ان ممالک نے کہا کہ یہ کارروائی قانونی اور انتظامی میدان میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کی مذموم کوشش ہے.
8 عرب و اسلامی ممالک نے اس فیصلے کے علاقائی نتائج پر بھی خبردار کیا اور تاکید کی کہ اس طرح کے اقدامات سے فلسطینی علاقوں اور پورے خطے میں کشیدگی و عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان کے آخر میں انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلسل خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے واضح اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائے اور بین الاقوامی قانون و فلسطینی عوام کے "ناقابل انکار" حقوق کی پاسداری کرے۔
واضح رہے کہ اس فیصلے کی بنیاد پر قابض اسرائیلی ریجیم نے مغربی کنارے کی زمینوں کو "ریاستی زمین" قرار دیتے ہوئے سال 1967 کے بعد پہلی مرتبہ اس زمین کی ملکیت کے اندراج اور اس کے تعین کا ایک وسیع عمل شروع کیا ہے۔ اس بارے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے زمین کی ضبطی اور غیر قانونی صہیونی بستیوں کی توسیع کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عرب و اسلامی ممالک
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔