پی ٹی آئی کا علی امین گنڈاپور کے بشریٰ بی بی اور علیمہ خان سے متعلق بیانات پر ایکشن لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہن علیمہ خان سے متعلق بیانات پر پی ٹی آئی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا۔
نجی خبررساں ادارے جنگ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے بیانات کا جائزہ لیا گیا اور پارٹی قیادت نے اڈیالہ ملاقاتوں کے بعد علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن کا فیصلہ کیا۔
اس سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکشن لینے سے قبل پارٹی کی قیادت نے تمام انٹرویوز اور بیانات کی تفصیلات بھی منگوائیں، ویڈیوز اور بیانات کا جائزہ لینے کے بعد علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
باجوڑ: مشرکہ چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام
اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے اہلخانہ سے متعلق کوئی بھی بیان برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے بہت سی باتیں کی ہیں، علی امین گنڈاپور نے بہت کچھ کہا، یقین دلاتا ہوں کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ کوئی قرض نہیں رکھا جائے گا لیکن آج وہ دن نہیں ہے، علی امین گنڈاپور کی تمام باتوں اور بیانات کا جواب دیا جائے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کے ایکشن لینے پی ٹی آئی کا فیصلہ جائے گا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔