چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقاتوں کا آج مقررہ دن ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

مزید پڑھیں:بیرسٹر گوہر علی خان نے 27ویں آئینی ترمیم کو ’باكو ترمیم‘ قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں نہ ہونے سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ عدالتوں کے احکامات، جیل رولز اور طے شدہ ایس او پیز کے مطابق ملاقات کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتیں تو بانی پی ٹی آئی کی صحت، علاج اور تجویز کردہ ٹریٹمنٹ سے متعلق بروقت آگاہی ملتی اور ابہام پیدا نہ ہوتا۔

عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقات بارے بیرسٹر گوہر خان کا بڑا اعلان؟@AmirSaeedAbbasi @alihamzaisb @PTIofficial @PTIOfficialISB pic.

twitter.com/AEYeAnaOKI

— Media Talk (@mediatalk922) February 17, 2026

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جیل میں قید شخص کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں فیملی اور وکلا تک رسائی دی جائے۔ ملاقاتوں میں رکاوٹ کو انہوں نے غیر انسانی رویہ قرار دیا اور کہا کہ بچوں اور اہل خانہ سے رابطہ نہ ہونے سے بے چینی بڑھتی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ کوششوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جو بھی مثبت کردار ادا کرے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ تاہم اس وقت پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی کی صحت، قانونی معاملات اور رہائی پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:قاضی فائز عیسیٰ بھی ٹرینڈ سیٹ کریں کہ میں توسیع نہیں لوں گا، بیرسٹر گوہر علی خان

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملاقاتوں کا سلسلہ معمول کے مطابق بحال ہو جائے تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور غیر ضروری احتجاجی صورتحال سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بانی پی ٹی آئی عمران خان بشریٰ بی بی بیرسٹر گوہر علی خان وزیر داخلہ محسن نقوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عمران خان بیرسٹر گوہر علی خان وزیر داخلہ محسن نقوی بیرسٹر گوہر علی خان بانی پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ کی صحت

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا