چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے نئے چینی سال کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے نئے چینی سال کی مبارکباد WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد ( آئی پی ایس) چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی نے نئے چینی سال کی آمد کے موقع پر عوامی جمہوریہ چین کی حکومت، قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے تہنیتی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نیا چینی سال خوشی، امن، ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سال چین کے عوام کے لیے کامیابیوں، استحکام اور مزید پیش رفت کا باعث بنے گا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ، مثالی اور آہنی دوستی کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور تعاون پر مبنی ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین کے ساتھ پارلیمانی روابط سمیت ہر سطح پر تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور دونوں ممالک کی شراکت داری خطے میں امن و خوشحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے نئے چینی سال کے موقع پر چین کے عوام کے لیے نیک تمناؤں، صحت، خوشی اور ترقی کی دعا کی۔
***********روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمحمد صادق خان کی روسی سفیر البرٹ خوریف سے ملاقات، افغانستان اور علاقائی سلامتی پر غور محمد صادق خان کی روسی سفیر البرٹ خوریف سے ملاقات، افغانستان اور علاقائی سلامتی پر غور باجوڑ: سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 خوارج ہلاک،11 اہلکار شہید قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 مقدمات میں عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا سیاست میں ایسا ہوتا ہے، برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا یا کرکٹ کے گاڈ بن جاتے: صدر زرداری کی پھر عمران پر تنقید موٹرویز اور سڑکوں کی بندش کے خلاف مسلم لیگ (ق) کی پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر پی این ایس خیبر کا جدہ اسلامک پورٹ میں تاریخی خیرسگالی دورہCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ نئے چینی سال
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔