کرپٹ حکمرانوں نے عوام پرمہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا‘سرداررحیم
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-08-20
کراچی(اسٹاف ر پورٹر) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 32 پیسے مہنگا کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپٹ حکمرانوں نے مہنگائی کے خاتمے کے بجائے عوام پر نیا بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے رمضان المبارک سے قبل پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کے اقدام کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومت نے ماہ رمضان سے پہلے مہنگائی بڑھانے کا تحفہ دے دیا ہے۔ سردار عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت نے اپنی شاہ خرچیوں کا بوجھ عوام پر منتقل کردیا ہے، ایندھن مہنگا ہوگا تو تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عوام کو قربان کیا جارہا ہے جبکہ غریب عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پس رہی ہے اور مزید اضافہ ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی کا طوفان نااہل حکمرانوں کو بہا لے جائے گا اور مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرکے عوام کو جینے کا حق دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔