Jasarat News:
2026-07-24@03:58:50 GMT

عالمی سیاست میں توانائی، تیل کے گرد بڑھی طاقتوں کی کشمکش

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عالمی سیاست میں توانائی ایک بار پھر مرکزی موضوع بن چکی ہے اور ماہرین کے مطابق بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش میں تیل کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی و تزویراتی مسابقت نے مشرقِ وسطیٰ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں ایران ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تیل کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں وینزویلا، سعودی عرب، ایران، کینیڈا اور روس شامل ہیں۔ دوسری جانب سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والی معیشتوں میں امریکا، چین اور بھارت نمایاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی تک رسائی صنعتی پیداوار، دفاعی صلاحیت اور عالمی اثر و رسوخ پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں طویل مدتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں، جسے واشنگٹن میں اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم بعض مبصرین اس تاثر سے اختلاف کرتے ہیں کہ کسی ایک ملک پر کنٹرول عالمی تیل منڈی پر مکمل غلبہ دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سپلائی چین، تجارتی معاہدے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام توانائی کے بہاؤ کو متوازن رکھتے ہیں۔ عالمی کشیدگی کے ممکنہ اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا تو توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ادھر توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کی جانب بڑھتی سرمایہ کاری بھی عالمی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں طاقت کا توازن صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے ذرائع بھی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: توانائی کے کے مطابق

پڑھیں:

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں

گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی