صدر کا شہر، پیاسا شہر — نوابشاہ میں پانی خواب بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوابشاہ: یہ وہی شہر ہے جسے فخر سے صدرِ مملکت کا آبائی شہر کہا جاتا ہے اور جہاں کے نام کے ساتھ ہمیشہ آصف علی زرداری کی نسبت جوڑی جاتی ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ اسی شہر کے باسی آج ایک ایک بوند صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔
کہتے ہیں اقتدار کے ایوانوں تک سب خبریں پہنچتی ہیں، مگر شاید نوابشاہ کے نلکوں کی سسکیاں راستہ بھول جاتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی کئی دن پانی غائب رہتا ہے اور جب کبھی مہربانی فرما کر آ بھی جائے تو اس کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ دیکھ کر ہی پیاس مر جائے۔ گندا، بدبودار اور مضرِ صحت پانی جیسے شہریوں کے صبر کا امتحان لے رہا ہو۔
گھر گھر کہانی ایک جیسی ہے۔ مائیں بچوں کو ابال کر پانی پلانے پر مجبور ہیں، بزرگ پیٹ کی بیماریوں سے نڈھال ہیں اور نوجوان جلدی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ترقی ہے؟ کیا یہی وہ سہولیات ہیں جن کے وعدے ہر انتخابی مہم میں گونجتے ہیں؟
شہر کی واٹر سپلائی لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی سب سے زیادہ گونج رہی ہے۔ لوگ صاف پانی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ٹینکر مافیا کی چاندی ہو رہی ہے اور عام شہری کی جیب خالی ہو رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صدر کے شہر کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ طنز کی حد یہ ہے کہ جس شہر کو سیاسی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی سے محروم ہے۔
اہلِ نوابشاہ نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خدارا اس شہر کو پیاسا نہ رہنے دیا جائے۔ صاف پانی کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی حق ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کیا اس حق کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے گی، یا نوابشاہ کی پیاس یونہی خبروں کی زینت بنتی رہے گی؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صاف پانی
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔