ویانا(نیوز ڈیسک) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی گئی۔
پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے مابین تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دنیا کو آج جغرافیائی کشیدگی اور موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں اور نقصانات آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں، نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ترقی کا عظیم موقع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کثیر قطبی دنیا کے تقاضوں کے مطابق مضبوط اور فعال بنانا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا فائدہ مخصوص طبقوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ملنا چاہیے، دنیا کے زخموں پر محض مرہم رکھنے کے بجائے انہیں جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اس تقریب میں ہونے والے معاہدوں میں یونیڈو (UNIDO) پروگرام برائے کنٹری پارٹنرشپ پاکستان 2025 تا 2030، یواین او ڈی سی (UNODC) کنٹری پروگرام پاکستان، اور انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئیر میڈیسن اینڈ آنکالوجی لاہور (INMOL) اور IAEA کے مابین تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم