کارکنوں پر دہشتگردی کے مقدمات نامنظور، کراچی کو جینے کا حق دیا جائے، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: منعم ظفر خان نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 2 روز قبل نکالی گئی ریلی پر پولیس کارروائی کو غیر قانونی اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ ان کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے پرامن احتجاج کیا، مگر اس کے باوجود کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد کارکن زخمی ہوئے اور کئی کو حراست میں لے کر ان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت کے کارکنوں نے اشتعال انگیزی کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بدامنی، اسٹریٹ کرائم اور بھتے کی پرچیاں بھیجنے جیسے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں، مگر حکومت کی توجہ عوامی مشکلات کے بجائے سیاسی دباؤ پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے وسائل پر مکمل اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے جبکہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، سڑکوں کی بار بار تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کراچی کو انتظامی خودمختاری دیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام کا مطالبہ دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ رمضان المبارک میں ایک بڑا جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے گل پلازہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا اور واضح کیا کہ احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔