قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین سید رفیع اللہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی اور بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلق متعدد اہم امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ڈگریوں کی بحرین میں عدم منظوری کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی نے اوورسیز طلبہ کے مستقبل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے مستقبل کو داؤ پر نہیں لگنے دیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ بحرین کی جانب سے ویریفکیشن روکنے پر تحریری اعتراض کیوں نہیں دیا گیا۔ بحرین میں تعینات اتاشی نے بتایا کہ باضابطہ خط و کتابت نہیں ہوئی تاہم عملی طور پر ویریفکیشن روک دی گئی تھی، جو اب بحال ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر زاہد نے بریفنگ میں مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی کے 60 لاکھ سے زائد گریجویٹس ہیں اور ادارہ 38 ممالک میں 80 سے زائد آن لائن پروگرامز آفر کر رہا ہے جب کہ اوورسیز طلبہ کے لیے علیحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم ہے۔ حکام کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور کینیڈا میں ڈگریوں کی قبولیت سے متعلق دستاویز بھی پیش کیے گئے۔ کمیٹی نے قومی اداروں کی ساکھ پر سمجھوتہ مسترد کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ریکٹر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں جاپان، جنوبی کوریا اور ملائیشیا میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ جاپان میں افرادی قوت برآمد کرنے اور فیسوں کے معاملے پر خصوصی بحث ہوئی۔ حکام نے بتایا کہ جاپان نے TIPP اور SSW پروگرام کے تحت آئندہ 5 سے 10 سال کی لیبر ضرورت واضح کی ہے، تاہم پاکستانی امیدواروں کو جاپانی زبان کے N5 سے N1 لیول میں مشکلات کا سامنا ہے اور ہائی اسکل کے لیے کم از کم N3 درکار ہے۔ 2023 میں صرف 6 پاکستانی جاپان بھیجے گئے۔ کمیٹی ارکان نے انکشاف کیا کہ بیرون ملک بھیجنے کے نام پر 40 سے 60 لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں جب کہ سرکاری فیس محض 15 ہزار روپے ہے۔ غیر شفاف وصولیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام ادائیگیاں بینکنگ چینل کے ذریعے اور ٹیکس ریٹرن سے مشروط کرنے کی تجویز دی گئی۔ ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ ناکامی کا بوجھ قوم پر نہ ڈالا جائے اور بچے زبان نہیں سیکھ رہے کہنا مسئلے کا حل نہیں۔ سی ڈبلیو اے کی سالانہ کارکردگی اور آؤٹ کم رپورٹ طلب کر لی گئی، جب کہ 3 سالہ عملی نتائج پر سوال اٹھائے گئے۔ سیکریٹری اوورسیز پاکستانی نے وضاحت کی کہ جاپانی زبان کی ٹریننگ نجی ادارے فراہم کرتے ہیں اور معیار سخت ہونے سے ناکامی کی شرح بڑھی ہے۔ سعودی عرب میں 30 لاکھ پاکستانیوں کے مقابلے میں صرف 6 سی ڈبلیو اے ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا، تاہم دمام میں نئے قونصل جنرل آفس اور اضافی سی ڈبلیو اے کی تعیناتی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ کوٹہ پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور اٹلی کوٹہ سسٹم کے تحت افرادی قوت لیتے ہیں۔ اٹلی کا گلوبل کوٹہ 80 ہزار ہے جس میں پاکستان کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار مختص ہیں۔ حکام کے مطابق بعض پاکستانی ورکرز کے جلد کنٹریکٹ چھوڑنے سے غیر ملکی کمپنیوں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے، پاسپورٹ ضبط کرنے یا پابندی لگانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اسکریننگ اور موٹیویشن بہتر بنانے کا عندیہ دیا گیا۔ جنوبی کوریا اور ملائیشیا سے متعلق بریفنگ میں سوشل سیکیورٹی معاہدے، انشورنس و پنشن سہولت، ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں 1100 پاکستانیوں کی منظوری اور 2025 میں 3600 پاکستانیوں کی خصوصی حکومتی منظوری سے روانگی کی تفصیلات دی گئیں۔ ملائیشیا میں بھرتیوں پر پابندی مارچ/اپریل میں ختم ہونے کی توقع ظاہر کی گئی، جب کہ 2025 میں 248 پاکستانیوں کی میتوں کی وطن واپسی اور قیدیوں کی واپسی کے لیے پرزنر ٹرانسفر ایگریمنٹ کو حتمی مراحل میں قرار دیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے اعداد و شمار میں تضاد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط بیانی برداشت نہیں کی جائے گی اور آئین کے تحت درست معلومات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی نے سی ڈبلیو اے اور او ای سی کے درمیان ذمہ داریوں کا واضح تعین اور کوٹہ کے مکمل استعمال کو ہدف بنانے کی ہدایت کی، جب کہ پرائیویٹ سیکٹر کو شفاف پیرامیٹرز کے تحت شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سی ڈبلیو اے کرتے ہوئے کمیٹی نے کا اظہار کے لیے کے تحت

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف