سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور انتظامیہ تو موجود ہیں لیکن ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خوروں کے سامنے یہ فعال نظر نہیں آتی، وفاقی صوبائی اور شہری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔ اسلام ٹائمز۔ نظام مصطفی پارٹی کے چیئرمین سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے رمضان المبارک کی آمد سے چند دن قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو افسوسناک قرار دیا، پیٹرول 5 روپے اور ڈیزل 7 روپے اضافہ سے اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا جس سے غریب، متوسط طبقہ شدید متاثر ہوگا۔ ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے پیٹرولیم منصوعات میں اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے قیمتوں میں فوری کمی کرنے کی اپیل کی تاکہ رمضان میں عوام میں مہنگائی کا بوجھ کم کیا جاسکے۔

ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ یہ بات افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ دنیا بھر میں دیگر مذہبی تہواروں کے موقع پر وہاں حکومتیں اور تاجر قیمتوں میں کمی کردیتے ہیں لیکن یہاں تو رمضان سے قبل ہی سے مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے، اشیائے خوردونوش عام دنوں کے مقابلے میں دگنے داموں فروخت ہونے لگتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور انتظامیہ تو موجود ہیں لیکن ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خوروں کے سامنے یہ فعال نظر نہیں آتی، وفاقی صوبائی اور شہری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مہنگائی پر قابو پانے حنیف طیب کے لئے

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟