اسلام آباد میں بنیادی مرکزِ صحت پر جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دارالحکومت میں جدید سہولیات سے آراستہ ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج کی فراہمی صحت کے شعبے میں ایک خاموش انقلاب ثابت ہو رہی ہے، جس سے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو معیاری طبی سہولتیں ان کی دہلیز پر میسر آئیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے نہ صرف مریضوں اور ڈاکٹرز کی باقاعدہ مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی بلکہ علاج معالجے کے پورے نظام میں شفافیت اور رفتار بھی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کو آسان، بروقت اور کم خرچ علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ بڑے شہروں کے اسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں صحت کے شعبے میں ہمہ جہت اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاؤ پر بھی توجہ دی جا سکے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت کو فعال اور مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر نظام ہی بڑے اسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملکی وسائل پر بڑا دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال اتنی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جتنا نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی کے برابر ہے، جو ایک تشویشناک حقیقت ہے، ہیلتھ کیئر سسٹم کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ لوگوں کو بیمار ہونے سے پہلے ہی تحفظ فراہم کرے، محض علاج تک محدود رہنا کافی نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہمات کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی، مؤثر پالیسیوں اور عوامی شراکت سے ایک مضبوط اور پائیدار نظامِ صحت کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔