Al Qamar Online:
2026-06-03@04:15:36 GMT

سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں لا اینڈ جسٹس کمیشن کا 47واں اجلاس ہوا جس میں عدالتی امور پر غور کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت، عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کیا جس کے تحت آئندہ سوا ماہ میں تمام کیسز کو نمٹایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق انصاف سے محروم شہریوں کے لیے مفت قانونی مشورے کا جامع فریم ورک تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ کو ہائی کورٹز اور بار کے تعاون سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی۔

اجلاس میں ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے ذریعے فنڈنگ کے امکانات پر غور کیا گیا جبکہ خاندانی قوانین، کریمنل پروسیجر اور ای فائلنگ سمیت دیگر اصلاحات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں انکلوسیو اور ریسپانسیو قانون سازی کے عزم کے ساتھ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی توثیق کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 9 تا 14 فروری 2026 کے دوران سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔

اعلامیہ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فیصد سے زیادہ رہی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026 تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق مخصوص بینچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار انداز اپناتے ہوئے نمٹانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیل پٹیشنز کی دائر درخواست کے فیصلے تک واضح اور قابلِ پیش گوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا اس کے علاوہ فوجداری مقدمات میں جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سزائے موت اور عمر قید لا اینڈ جسٹس کمیشن اعلامیے کے مطابق کے مقدمات چیف جسٹس کیا گیا

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ