اٹلی کے جنوبی علاقے پولیا کے شہر میلینڈونیو کے مقام سانت آندریا میں واقع سمندری چٹانوں کا مشہور قدرتی محراب جسے’لوورز آرچ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، ویلنٹائن ڈے کے روز سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق بحیرہ ایڈریاٹک کے ساحل پر واقع یہ نمایاں قدرتی نشان جنوبی اٹلی میں شدید طوفانی لہروں اور موسلا دھار بارشوں کے بعد منہدم ہوگیا۔

یہ مقام شادی کے پروپوزلز، سیلفیوں اور پوسٹ کارڈز کے پس منظر کے طور پر بے حد مقبول تھا اور علاقے سالینتو کی نمایاں ترین علامتوں میں شمار ہوتا تھا جو اٹلی کے مصروف ترین سیاحتی علاقوں میں سے ایک ہے۔

میلینڈونیو کے میئر، ماوٴریتسیو چِسترنِینو نے کہا کہ یہ دل پر ایک کاری ضرب ہے۔ ہمارے ساحل اور پورے اٹلی کی مشہور ترین سیاحتی علامات میں سے ایک اب ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی ہے۔

مزید پڑھیے: ’بیڈمنٹن کھیلنے چلیں‘، ہانگ کانگ میں لڑکیاں اب اس کا کیا مطلب لیتی ہیں؟

مقامی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں تیز ہواؤں، طغیانی مارتے سمندر اور شدید بارشوں نے چٹان کے ڈھانچے کو بتدریج کمزور کردیا تھا جس کے بعد ہفتے کے روز وہ مکمل طور پر گر گئی۔ اسے ساحلی کٹاؤ کے باعث سالینتو کے قدرتی منظرنامے کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

میئر نے مزید کہا کہ قدرتی منظر یکسر بدل چکا ہے اور جو کچھ 30 سال پہلے موجود تھا وہ اب باقی نہیں رہا۔ ہمیں اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے وسائل تلاش کرنا ہوں گے۔

میلینڈونیو کے سیاحت کے کونسلر فرانچیسکو اسٹیلا نے اس واقعے کو ایک تدفین جیسا منظر قرار دیا۔

مزید پڑھیں: اظہار محبت کے خفیہ اشارے: کیا ایموجیز صدیوں پرانے کوڈ ورڈز کا تسلسل ہیں؟

بحیرہ روم میں آنے والے خصوصی طوفان جنہیں میڈیکینز کہا جاتا ہے اور جن میں جنوری میں آنے والا سائیکلون ہیری بھی شامل ہے بندرگاہوں، گھروں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور ساحلی علاقوں کی ساخت کو تبدیل کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق میڈیکینز گرم مرکز رکھنے والے طوفانی نظام ہیں جو بحیرہ روم میں بڑھتے ہوئے سمندری درجہ حرارت کے باعث زیادہ شدت اور تعداد کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں اور یہ ماحولیاتی ہنگامی صورتحال سے جڑے ہوئے ہیں۔

سِسلی کی یونیورسٹی آف کاتانیا کے ماہر ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے پروفیسر کرسچین ملڈر نے کہا کہپ سال2025  بحیرہ روم کے گرم ترین برسوں میں سے ایک ثابت ہو رہا ہے۔ گرم سمندر فضا کو مزید توانائی فراہم کر رہے ہیں اور شدید موسمی واقعات کو ہوا دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟

ان طوفانوں کی تباہ کن طاقت جن میں ہواؤں کی رفتار 60 میل فی گھنٹہ (97 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے تجاوز کر جاتی ہے اور لہریں 15 میٹر تک بلند ہو جاتی ہیں جنوبی اٹلی میں بندرگاہوں کی تباہی، گھروں کو نقصان اور سڑکوں کی بربادی کے ساتھ ساتھ طویل ساحلی پٹی کو بھی شدید متاثر کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اٹلی کی لو آرچ ویلنٹائن ڈے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اٹلی اٹلی کی لو ا رچ ویلنٹائن ڈے رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟