ہم جنوبی لبنان سے نہیں جائیں گے، صیہونی وزیر جنگ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے 5 اہم مقامات پر ہماری موجودی، جنگبندی کے معاہدے کا حصہ نہیں۔ یہ وہ امر ہے جو تل ابیب کی خواہش پر امریکہ بھی قبول کر چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ "لبنان" کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو یكسر نظرانداز کرتے ہوئے صیہونی وزیر جنگ "یسرائیل کاٹز" نے کہا کہ جب تک "حزب الله" غیر مسلح نہیں ہوگی اسرائیلی فوج، جنوبی لبنان سے نہیں جائے گی۔ انہوں نے کمال ڈھٹائی سے کہا کہ جنوبی لبنان کے 5 اہم مقامات پر ہماری موجودی، جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ نہیں۔ یہ وہ امر ہے جو تل ابیب کی خواہش پر امریکہ بھی قبول کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی اداروں میں ہم نے ایک منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے ابتدائی طور پر "اسرائیل شیلڈ" کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لئے اگلی دہائی میں 350 ارب شیکل کا سیکورٹی بجٹ اضافہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ لبنان کے اسرائیل سے جنگ بندی کے معاہدے میں صرف دریائے لیطانیہ کا جنوبی حصہ لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اس معاہدے میں کہیں بھی حزب الله کو غیر مسلح کرنے یا اس تنظیم کی سرگرمیاں محدود کرنے کی بات نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے معاہدے
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔